انوارالعلوم (جلد 12) — Page 367
۳۶۷ نبی کریم ﷺ کے پانچ عظیم الشان اوصاف باپ کے ظلموں سے تنگ آ کر ہم نے اسے قتل کر دیا ہے- اس نے عرب کے ایک شخص کے متعلق ایسا ظالمانہ حکم دیا تھا اسے بھی منسوخ سمجھو-۲۴؎ غور کرو کہ غریب بڑھیا سے تو وہ معاملہ ہے اور کسریٰ جیسے جابر بادشاہ سے یہ کہ جا کر کہہ دو ہم تمہاری بات نہیں مانتے- غیر قوموں کے لوگوں سے سلوک یہ ہے کہ سلمان فارسی آتے ہیں اور غیر لوگوں میں ہونے کی وجہ سے اجنبیت محسوس کرتے ہیں- آپ ان کی دلجوئی کا اس حد تک خیال رکھتے ہیں کہ فرماتے ہیں- سلمان منا اھل البیت۲۵؎ سلمان ہمارے رشتہ داروں سے ہے- اس کے بعد وہ اپنے آپ کو کس طرح امن میں نہ سمجھتا ہو گا- غرضیکہ ہر شخص خواہ وہ کن حالات میں ہو آپﷺ کے متعلق کہہ سکتا ہے کہ آپ ہم میں سے ہیں- لیکن جو مثالیں میں نے اوپر پیش کی ہیں ان کی بناء پر مسلمان تو کہہ سکتے ہیں کہ آپ ہم میں سے ہیں مگر ایک غیر مسلم کس طرح یہ کہہ سکتا ہے لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم کا یہ دعویٰ ہے کہ سب گذشتہ بزرگوں کی ضروری اور اچھی تعلیم اس میں ہے اور اس لحاظ سے ہر غیر مسلم بھی کہہ سکتا ہے کہ محمدﷺ ہم میں سے ہے- دوسرا ذریعہ یہ ہے کہ آپﷺ نے تمام گذشتہ انبیاء کی تصدیق کی- خدا تعالیٰ نے آپﷺ سے فرمایا- کہ ان من امہ الا خلا فیھا نذیر ۲۶؎ اور جب ہر قوم میں نبی ہوئے ہیں اور ادھر آپﷺ نے فرمایا کہ تمام انبیاء بھائی بھائی ہیں تو ماننا پڑے گا کہ محمد ﷺ حضرت رام‘ کرشن‘ موسیٰ‘ عیسیٰ‘ زرتشت‘ کنفیوسشش علیہم السلام سب کے بھائی تھے اور اس طرح ہندوستانی‘ ایرانی‘ مصری‘ جاپانی‘ چینی ہر ایک کہہ سکتا ہے کہ محمد من انفسنا کیونکہ آپﷺ سب انبیاء کی اسی طرح تصدیق کرتے ہیں جس طرح خود ان کے ماننے والے کرتے ہیں- پس اس قول میں محمدﷺ رسول اللہ ﷺ اور ساری اقوام شامل ہیں اور ہر ایک قوم کہہ سکتی ہے کہ محمدﷺ ہم میں سے ہے- بعض عیسائی آپﷺ کے متعلق لکھتے ہیں کہ آپﷺ ایک اچھے عیسائی تھے- مگر حقیقت یہ ہے کہ آپ اچھے عیسائی‘ موسائی‘ بدھ سب کچھ تھے کیونکہ آپ مسلمان تھے اور مسلمان کے معنے ہی یہ ہیں جو سب صداقتوں کو ماننے والا ہو- پس جہاں قرآن کا یہ دعویٰ ہے کہ محمد ﷺ تم میں سے ہے وہاں آپ کی زندگی کا ہر شعبہ اس دعویٰ کی دلیل ہے- تیسری صفت جو قرآن کریم نے آپﷺ کی بیان فرمائی وہ یہ ہے- کہ عزیز علیہ ماعنتم تمہارے اوپر تکلیف اس پر گراں گذرتی ہے- عزیز میں صرف شاق کا مفہوم ہی