انوارالعلوم (جلد 12) — Page 338
۳۳۸ حُریّتِ انسانی کا قائم کرنے والا رسول ﷺ رہے- جب ایک لمبے عرصہ کے بعد پہلا نقطہ نگاہ بھول گیا تو پھر یہی فعل ایک سزا سمجھا جانے لگا- خصوصاً جبکہ انسانی دماغ ترقی کر رہا تھا اور اخلاق کی مزید باریکیاں معلوم ہونے کے سبب سے ایک حصہ انسانوں کا اس بات کی طرف مائل تھا کہ اپنے دشمن کے ضرر سے بچنے کے لئے اور ذرائع بھی اختیار کئے جا سکتے ہیں‘ پس ہمیں ان کی تلاش کرنی چاہئے- غلامی کی ناجائز صورتیں غلامی کی ان صورتوں کے علاوہ جو کہ اپنے اپنے وقت میں جائز تھیں‘ بعض ناجائز صورتیں بھی پیدا ہو گئیں مثلاً یہ کہ جب لوگوں نے دیکھا کہ لوگوں کو غلاموں سے کام لینے کی عادت ہو گئی ہے اور وہ ان کے لئے بڑی بڑی رقمیں ادا کرتے ہیں تو انہوں نے آزاد لوگوں کو یا ان کے بچوں کو پکڑ پکڑ کر بیچنا شروع کیا اور ایک ملک سے پکڑ کر دوسرے ملک میں لے جا کر بیچ دیتے تھے اور اس طرح لاکھوں روپیہ کماتے تھے- یہ صورت انسانی تمدن کے مختلف دوروں میں کبھی بھی معقول نہیں سمجھی گئی اور ہمیشہ اسے ناپسندیدہ اور نامناسب ہی قرار دیا گیا- چونکہ غلامی کی ابتداء اس خیال پر تھی کہ انسان کو غلام اس کے فائدہ کے لئے بنایا جاتا ہے یعنی اس کو قتل سے بچانے کے لئے اس لئے اس نقطہ نگاہ کے ماتحت دنیا میں ایک اور طریق غلامی کا بھی ایجاد ہو گیا کہ بعض لوگ خود اپنے آپ کو یا اپنے بچوں کو بیچ ڈالتے تھے- کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ایک مالدار آدمی کے پاس فروخت ہو جانے پر ان کی یا ان کے بچوں کی حالت اچھی ہو جائے گی- جہاں تک میں خیال کرتا ہوں‘ اس زمانہ کے نقطہ نگاہ کے ماتحت یہ بات بھی کوئی معیوب نہ تھی کیونکہ عمر بھر بھوکے رہنے‘ بیماریوں میں مبتلا رہنے اور اپنے بیوی بچوں کو بھوکا تڑپتے دیکھنے سے یہ بات اس وقت کے تمدن کے لحاظ سے بہتر معلوم ہوتی تھی کہ کوئی شخص اپنی ساری عمر کی خدمت کااقرار ایک شخص سے کر لے اور اس کے بدلہ میں کوئی دوسرا شخص اس کی رہائش اور اس کے کھانے پینے کا ذمہ وار ہو- میری یہ تمہید اور غلامی کی تاریخ پر غور کرنے سے یہ بات آسانی سے سمجھ میں آ سکتی ہے کہ انسانی سوسائٹی پر بعض دور ایسے آتے ہیں جبکہ غلامی ضروری ہو جاتی ہے اور یہ کہ غلامی کے اصل نقائص یہ ہیں-: (۱) کہ انسان کی آزادی بالکل مسلوب ہو جائے- (۲) اس کی قید اس کے فائدہ کے لئے نہ ہو-