انوارالعلوم (جلد 12) — Page 254
۲۵۴ زمینداروں کی اقتصادی مشکلات کا حل وغیرہ دوران سال میں خود مہیا کر کے دیتی ہے- اس طرح اجتماعی کاشت کے ذریعہ سے روس میں گیہوں کی پیدا وار بہت بڑھا لی گئی ہے اور ایک دو سال میں کپاس کی پیدا وار بھی اسی طرح بڑھا لینے کا اعلان کیا گیا ہے- چونکہ روس کی آبادی اتنا غلہ نہیں خرچ کر سکتی جتنا کہ ملک میں پیدا ہونے لگ گیا ہے اس لئے کئی کروڑ من غلہ چو بچ گیا ہے وہ نہایت سستے داموں پر باہمی فروخت کیا جا رہا- پچھلے سال پندرہ آنے من تک سنا گیا ہے فروخت ہوا ہے- اور اس سال اس سے بھی شاید سستا ہو- یہ زیادتی اتفاقی امر نہیں ہے بلکہ روس کی حکومت نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے تاکہ اس سے دوسرے ملک کے زمینداروں کو نقصان پہنچے اور ان میں بغاوت پیدا ہو کر وہ کمزور ہو جائیں- سوائے روس کے اس قسم کی سکیم پر کوئی اور حکومت عمل نہیں کر سکتی کیونکہ وہاں سب زمین حکومت کی ہے اور وہ زمینداروں کو مجبور کر کے جس طرح چاہے کام لے سکتی ہے- پھر چونکہ حکومت زمینداروں کو روٹی کپڑا دے دیتی ہے وہ غلہ کا بھاؤ گرنے پر کوئی اعتراض بھی نہیں کر سکتے- دوسرے ممالک میں چونکہ یہ انتظام نہیں ہے وہاں کے زمینداروں کو تکلیف ہوتی ہے- ہندوستانی کی سکہ کی گراں قیمت تیسرا سبب جو اس وقت ہندوستان کی اقتصادی حالت کی خرابی کا موجب ہے وہ ہمارے سکہ کی قیمت ہے- گورنمنٹ نے روپیہ کی قیمت بڑھا دی ہے- اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بیرونی ممالک کو اپنے سکے کے مقابلہ میں ہندوستان کا روپیہ کم ملتا ہے اور اس وجہ سے ہندوستان میں غلہ یا کپاس خریدنا ان کو مہنگا پڑتا ہے- قاعدہ یہ ہے کہ جس ملک کے سکے کی قیمت گراں ہو جائے اس ملک کا مال باہر کم جاتا ہے اور جب سکہ کی قیمت گر جائے تو وہاں کا مال باہر زیادہ جاتا ہے- چنانچہ جنگ عظیم کے بعد جرمن حکومت نے جان بوجھ کر اپنے سکے کی قیمت اتنی گرا دی تھی کہ باہر کے ملکوں کو باقی ممالک کی نسبت جرمن کی چیزیں بہت سستی پڑنے لگ گئی تھیں- جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ باہر سے بہت آرڈر جرمن میں جانے لگ گئے اور جرمن کے کارخانے جلد ہی اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے- فرانس اور اٹلی نے بھی ایک حد تک اسی ترکیب سے فائدہ اٹھایا تھا- اب اگر ہندوستان کا روپیہ سستا ہو جائے تو گیہوں کے ریٹ بھی کسی قدر زیادہ ہو سکتے ہیں اور باوجود اس کے باہر سے آڈر بھی زیادہ آ سکتے ہیں-