انوارالعلوم (جلد 12) — Page 240
۲۴۰ روکوں گا- میں نے جو کچھ کام کیا ہے وہ ان کے لئے نہیں اپنے مولیٰ کیلئے کیا ہے- پس میرا ان پر احسان نہیں نہ میں ان سے کسی شکریہ کا طالب ہوں- ہاں میں انہی کے فائدہ کے لئے انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ انسان کو ہر اچھی چیز کی خوبی تسلیم کرنی چاہئے- گلینسی کمیشن کی رپورٹ یقیناً بہت سی خوبیاں رکھتی ہے اس میں یقیناً مسلمانوں کی ترقی کا بہت سا مادہ موجود ہے- اس کے متعلق یہ کہنا کہ اس سے ہماری حالت پہلے سے بدتر ہو جائے گی‘ درست نہیں- اگر یہ درست ہے تو کیا یہ لوگ اس امر کا اعلان کرنے کو تیار ہیں کہ اس کمیشن کی سفارشات کو واپس لے لیا جائے- باقی رہا یہ وہم کہ گلینسی کمیشن کی اس لئے تعریف کی جاتی ہے کہ وہ انگریز ہیں تو یہ بالبداہت غلط ہے- اب جن صاحب پر ذمہ واری ہے وہ بھی انگریز ہیں یعنی مسٹر کالون اور ان کے کاموں کو ہم خوب غور سے دیکھ رہے ہیں- اور اگر ثابت ہوا کہ گلینسی کمیشن کی رپورٹ پر عمل کرنے میں انہوں نے سستی کی ہے تو ہم یقیناً ان کا مقابلہ کریں گے- پس میں سب اہل کشمیر کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ وہموں کو چھوڑ کر عمل کی طرف توجہ کریں- ایک ضروری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کی کامیابی کو دیکھ کر ہندوؤں نے بھی ایجی ٹیشن شروع کیا ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ مسلمانوں کو جو تھوڑے بہت حقوق ملے ہیں وہ بھی انہیں حاصل رہیں- اگر اس موقع پر مسلمانوں نے غفلت سے کام لیا تو ہندو یقیناً اپنا مدعا حاصل کر لیں گے- پس اس وقت ضرورت ہے کہ مسٹر عبداللہ کی عدم موجودگی میں ایک انجمن مسلمانوں کے سیاسی حقوق کی حفاظت میں بنائی جائے اور وہ انجمن اپنی رائے سے حکومت کو اطلاع دیتی رہے- ینگ مین مسلم ایسوسی ایشن کے اصول پر اگر ایک انجمن تیار ہو تو یقیناً اس کے ذریعہ سے بہت سا کام کیا جا سکتا ہے- یہ مت خیال کریں کہ بغیر اجازت کے انجمن نہیں بن سکتی- انجمنوں کی ممانعت کا کوئی قانون دنیا کی کوئی حکومت نہیں بنا سکتی- آخر ہندو انجمنیں بنا رہے ہیں- آپ کی انجمن خفیہ نہ ہوگی نہ باغیانہ- پھر حکومت اس بارہ میں کس طرح دخل دے گی- میں امید کرتا ہوں کہ نوجوان فوراً اس طرف قدم اٹھائیں گے اور اس ضرورت کو پورا کریں گے- ورنہ سخت نقصان کا خطرہ ہے اور بعد میں پچھتائے کچھ نہ ہوگا- ایک ضروری امر جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ جب تک خود اہل کشمیر اپنے آپ کو منظم نہ کریں گے کچھ کام نہیں ہوگا- باہر کے لوگ کبھی کسی نظام کو سنبھال نہیں