انوارالعلوم (جلد 12) — Page 211
۲۱۱ رکھیں کہ ضرور ہماری بات اثر کرے گی- دیکھو مسمریزم کرنے والا ایک جاگتے شخص کو کہنے لگتا ہے کہ تم سو گئے تم سو گئے‘ اور وہ سو جاتا ہے- پھر وہ اس سے جو کچھ چاہتا ہے منوا لیتا ہے- اگر وہ دوسرے سے جھوٹ منوا لیتا ہے تو کیا ہم سچ نہ منوا سکیں گے؟ ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا بلکہ ضرور ہے کہ ایک دن یا ریاست کے حکام ہماری بات مان لیں اور مسلمانوں کو حق دے دیں اور یا انگریز ہی ہماری بات مان لیں اور ہمارے حق دلا دیں- اسی طرح اگر ہم ریاست اور اس کے باہر مسلمانوں کو بیدار کرتے رہیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ دوسرے لوگ ہم سے مرعوب ہوں گے کیونکہ بیدار قوم کو کوئی نہیں دبا سکتا- غرض اگر دوسرے لوگ دیکھیں گے کہ کشمیر کے مسلمان اور دوسرے مسلمان اس امر پر تل گئے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے ان کے جائز حق حاصل کریں‘ تو جو لوگ دلیل سے ماننے والے نہیں وہ رعب سے مان لیں گے- مگر رعب دھمکیوں سے اور مارنے سے نہیں پیدا ہوتا بلکہ پختہ ارادہ اور اپنے کام کے لئے مستقل قربانی کرنے کے لئے تیار ہو جانے سے پیدا ہوتا ہے- مجھے یقین ہے کہ اگر یہ باتیں اہل کشمیر پیدا کر لیں تو نہ ریاست ان کے حق کو دبا سکتی ہے نہ انگریز اس میں اس کی مدد کر سکتے ہیں- کوئی حکومت اپنے سب ملک کو تباہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتی- اور کوئی توپ پختہ ارادہ کو زیر نہیں کر سکتی- پس ہمارا راستہ کھلا ہے اندرونی تنظیم اور اپنے معاملہ کو بار بار دلیل کے ساتھ پبلک میں لانا ان دونوں تدبیروں میں سے کوئی نہ کوئی ضرور اثر کرے گی- یا تنظیم رعب پیدا کرے گی یا دلیل دل کو صاف کر دے گی‘ خواہ ریاست کے حکام کے دلوں کو خواہ انگریزوں کے دلوں کو- اور جس طرح سے بھی ہمیں حق مل جائے‘ ہم اسے خوشی سے قبول کریں گے- اور نہ ریاست سے گفتگو کا دروازہ بند کریں گے نہ انگریزوں سے- جو بھی ہماری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے گا‘ اس کی طرف ہم بھی دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے- اگر آج ریاست ہمارے بھائیوں کے حقوق دینے کو تیار ہو جائے تو ہم اس کے ساتھ مل کر انگریزوں سے کہیں گے کہ ہم لوگوں کی صلح ہو گئی ہے- اب آپ لوگ یہاں سے تشریف لے جائیے- اور اگر انگریزوں کی معرفت ہمیں حق ملے گا تو ہم کہیں گے کہ ہمارے وطنی بھائیوں سے یہ غیر اچھے ہیں جنہوں نے انصاف سے کام لیا- یہی اور صرف یہی عقلمندی کا طریق ہے- اور جو شخص غصہ میں اور درمیانی مشکلات سے ڈر کر اپنے لئے خود ایک دروازہ کو بند کر لیتا ہے‘ وہ نادان ہے اور قوم کا دشمن ہے- آج ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہمارا حق ریاست سے ملے گا یا انگریزوں سے- اور دلیل سے ملے