انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 209

۲۰۹ کے حق میں کوئی سفارش کی گئی تو یقیناً اس سے ہم کو فائدہ پہنچے گا- بعض افسر اور بعض دوسرے لوگ بہت پہلے سے گلینسی رپورٹ کے متعلق بھی کہہ رہے ہیں کہ مسٹر گلینسی نے ان سے کہہ رکھا ہے کہ ان کا فیصلہ مسلمانوں کے خلاف ہوگا- اگر یہ سچ ہے تو بھی میرے نزدیک ہمیں اس سے مایوسی کی ضرورت نہیں- ہر اک غیر منصفانہ رپورٹ جو انگریز کریں گے‘ اس سے مسلمانوں کی ہمدردی کھو کر اپنی قوم کے لئے مشکلات پیدا کریں گے- پس ایسی رپورٹ سے ہمارا نقصان نہیں‘ خود ان کا نقصان ہے- ہمارے مطالبات پھر بھی قائم رہیں گے- ہم نے اپنے حقوق کے متعلق کیا یہ تسلیم کیا ہے کہ جو کچھ انگریز کہہ دیں گے‘ اسے ہم تسلیم کر لیں گے- اگر وہ معقول بات ہوگی تو ہم اسے مانیں گے‘ ورنہ کہیں گے کہ عطائے تو بلقائے تو- براردان! یاد رکھیں کہ مایوسی کی لہر دو طرف سے چلائی جا رہی ہے- ایک ریاست کے ہندو افسروں کی طرف سے جو بعض انگریزوں کی غلطیاں گنوا کر مسلمانوں کو اس طرف لانا چاہتے ہیں کہ وہ خود ریاست کے ہندو افسروں سے فیصلہ چاہیں- حالانکہ جو کچھ ہندو افسروں نے سلوک کیا ہے وہ اس قدر پرانا نہیں کہ اسے مسلمان بھول جائیں- ایک شخص کے فیصلہ سے انگریزی طبیعت کا حال نہیں معلوم ہو سکتا- نہ مسٹر مڈلٹن اور مسٹر گلینسی انگریزی حکومت کا نام ہے- لیکن ہندوؤں نے تو ریاست میں افراد کی حیثیت میں نہیں حکومت کی حیثیت میں مسلمانوں کو بیدردی سے کچلا ہے- پس جو کچھ ان سے ظاہر ہوا ہے‘ کیا مسلمان اسے اس قدر جلد بھول جائیں گے؟ اب اس وقت بھی کہ مڈلٹن رپورٹ شائع ہو چکی ہے‘ میرے پاس درخواستیں آ رہی ہیں کہ میرپور کی طرح دوسرے علاقوں میں بھی انگریزی مداخلت کی کوشش کی جائے- اگر انگریزوں اور ریاستی حکام میں فرق نہیں تو یہ کیوں ہو رہا ہے؟ یہ سخت بے وقوفی ہوگی کہ ہم ایک شخص سے یا ایک فعل سے ناراض ہو کر عقل کو ہی چھوڑ دیں اور اپنی موت کے سامان خود کرنے لگیں- پس مڈلٹن رپورٹ کی غلطی کا یہ نتیجہ نہیں نکلنا چاہئے کہ ہم ہندو حکام کے ہاتھ میں کھیلنے لگیں- ان باتوں میں آنے والے لوگوں کو چاہئے کہ ان وسوسوں کے پیدا کرنے والوں سے دریافت کریں کہ فرض کرو کہ مڈلٹن صاحب کوئی رقم کھا گئے ہیں (جسے میں تسلیم نہیں کرتا)تو یہ بتاؤ وہ رقم کس نے کھلائی ہے اور کس غرض سے؟ اگر ہندو حکام نے اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے تو اس جھوٹ کو تسلیم کر کے بھی تو اصل دشمن وہی رشوت کھلانے والے ثابت ہوتے ہیں-