انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 162

۱۶۲ اور بچوں کو نصیحت کریں کہ غلامی کی زندگی سخت ذلت کی زندگی ہے انہیں اپنے باپ دادوں کی مصیبتوں کو یاد رکھنا چاہئے اور ان غلامی کی زنجیروں کو کاٹنے کی کوشش کرنی چاہئے- یاد رکھیں کہ مظلومیت آخر کامیاب ہوتی ہے اور بچپن میں کان میں ڈالی ہوئی باتیں پتھر کی لکیر کی طرح ثابت ہوتی ہیں- پس جن تقریروں سے آپ کو باہر روک دیا گیا ہے وہ تقریریں آپ میں سے ہر شخص رات کے وقت اپنے اپنے گھر میں گھر کی عورتوں اور بچوں کے سامنے کرے کہ اس سے سارے ملک کی تربیت بھی ہوتی چلی جائے گی اور باہر کی تقریروں کا جو مقصد تھا اس طرح اور بھی زیادہ عمدگی سے پورا ہوتا رہے گا- بلکہ میں تو کہوں گا کہ جو شخص اکیلا ہے اسے چاہئے کہ رات کو سونے سے پہلے خواہ اونچی آواز سے خواہ دل میں ایک دفعہ ان ظلموں کا ذکر کر لیا کرے جو امن کے قیام کے نام سے گذشتہ دنوں میں کشمیر میں روا رکھے گئے ہیں- دوسری نصیحت میں یہ کرتا ہوں کہ آپ لوگ رات کو سونے سے پہلے سب گھر والوں کو جمع کر کے اپنے ان لیڈروں کی آزادی کے لئے جو اپنے کسی جرم کے بدلے میں نہیں‘ بلکہ صرف آپ لوگوں کو انصاف دلانے کے لئے جیل خانوں میں پڑے ہوئے ہیں‘ رو رو کر دعائیں کریں- تاکہ آپ کی دعائیں عرش عظیم کو ہلائیں اور وہ شاہنشاہ جو سب بادشاہوں پر حکمران ہے آپ کی مصیبت کو دور کرنے کے لئے اپنے فرشتوں کو بھیجے- اصل میں تو زبردست بادشاہ بھی اللہ تعالیٰ کی مدد کے ہر وقت محتاج ہوتے ہیں لیکن مظلوم اور کمزور کا اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے- پس روز رات کو اپنے اپنے گھروں میں اسے پکاریں اور بچوں کو ساتھ شامل کریں تا ان کے دل میں بھی درد پیدا ہو- اور تا شاید ان معصوموں کی دعاؤں سے ہی اللہ تعالیٰ آپ کے مظلوم لیڈروں اور دوسرے قومی خادموں کو قید و بند کی تکالیف سے بچائے- اسی طرح وہ لیڈر جو ابھی تک آزاد ہیں ان کے لئے بھی دعائیں کیا کریں کہ خدا تعالیٰ ان پر بھی اپنا فضل کرے اور انہیں ان کی قومی خدمتوں کا بہت بڑا اجر دے- آپ لوگ اگر سمجھیں تو اللہ تعالیٰ کا آپ پر بڑا فضل ہے کہ دونوں میرواعظان کو اس نے قومی درد عطا فرمایا اور وہ سب جھگڑے بھلا کر دوش بدوش ہر اک قسم کی تکلیف برداشت کر کے آپ لوگوں کے لئے کام میں لگے ہوئے ہیں- ان کا یہ اتحاد اور ان کی یہ قربانی ضائع نہیں جائے گی اور اللہ تعالیٰ جہاں انہیں نیک بدلہ دے گا وہاں اس قربانی کے بدلہ میں آپ لوگوں کو بھی کامیاب کرے گا- ہم لوگوں سے جس قدر ہو سکتا ہے کام کر رہے ہیں- میں نے بحیثیت صدر