انوارالعلوم (جلد 12) — Page 154
۱۵۴ کیا جائے‘ منہ کی ہمدردی کچھ چیز نہیں- جان تو بڑی چیز ہے پہلے کچھ قربانی کر کے دکھانی چاہئے تاکہ اہل کشمیر کو یقین آ سکے کہ ہمارے ہندوستانی بھائی ہم سے سچی ہمدردی رکھتے ہیں- افسوس ہے کہ باوجود بار بار توجہ دلانے کے کل اڑھائی ہزار روپیہ کے قریب چندہ ہوا ہے- جس کا اکثر حصہ ختم ہو چکا ہے- حالانکہ جس طرح جلدی جلدی کشمیر میں حادثات ہو رہے ہیں‘ وہاں کے لوگوں کے لئے ہزاروں روپیہ ماہوار کی امداد کی ضرورت ہے- اگر ہندوستان کے مسلمان بیواؤں‘ یتیموں اور زخمیوں کی امداد کے لئے روپیہ نہ بھیج سکیں گے تو مسلمان کے دشمنوں کو یقین ہو جائے گا کہ مسلمانوں کو ایک ایک کر کے مار لینا آسان کام ہے- پس میری ہر اس شخص سے جس تک میرا یہ اعلان پہنچے‘ درخواست ہے کہ اپنے علاقہ میں اس غرض کے لئے چندہ کر کے مسلم بنک آف انڈیا لاہور کے نام پر ارسال کر دے- اور کوپن پر لکھ دے کہ یہ روپیہ آلانڈیا کشمیر کمیٹی کے حساب میں جمع کیا جائے- اس وقت کی ذرا سی سستی کشمیر کے لوگوں کے لئے سخت تباہی کا موجب ہو گی- پس اگر بھکاریوں کی طرح دروازوں پر بھیک مانگ کر بھی چندہ جمع کرنا پڑے تو چندہ کریں اور جلد ارسال کریں- اس وقت تک شہروں میں سے صرف شملہ‘ مری‘ سیالکوٹ‘ رانی کھیت اور قادیان نے اپنا فرض ادا کیا ہے- باقی شہر یا بالکل خاموش ہیں یا بہت کم توجہ انہوں نے کی ہے حالانکہ یہ وقت سستی کا نہیں ہے- یاد رہے کہ اگر کوئی رقم اس تحریک کے ختم ہونے پر بچ رہی تو وہ کشمیر مسلمان کالج یا کشمیری مسلمانوں کی اعلیٰ تعلیم یا کسی اور ایسے کام پر جو ان کے فائدہ کا ہو‘ انہیں سے مشورہ لے کر خرچ کی جائے گی- رضا کاروں کی ضرورت چونکہ اس کام کے لئے رضا کاروں کی بھی ضرور ت ہے- اس لئے میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے فیصلے کے مطابق اعلان کرتا ہوں کہ جو لوگ اپنے آپ کو ہر قسم کی تکلیف میں ڈال کر کام کرنے کے لئے تیار ہوں اور پیدل سفر اور بھوک پیاس کی تکلیف کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس نیک کام میں حصہ لینا چاہتے ہوں‘ انہیں چاہئے کہ جلد اپنے نام آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے دفتر میں رجسٹر کرا دیں- ہر شخص کو کم سے کم ایک ماہ کے لئے وقف کرنا ہو گا- اور جس وقت آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی طرف سے اطلاع جائے‘ فوراً حاضر ہونا ہو گا- جو کام ان سے لیا جائے گا آئینی ہو گا- لیکن ضروری نہیں کہ ریاست کا نقطہ نگاہ ہم سے متفق ہو اس لئے جو لوگ اپنے آپ کو پیش کریں‘ وہ اس امر