انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 146

۱۴۶ مالی امداد کی ضرورت میں لکھ چکا ہوں کہ کشمیر کی آزادی کے لئے عملی جدوجہد صرف اہل کشمیر کو کرنی پڑے گی- لیکن کشمیر ایک غریب ملک ہے اور وہ اس وقت تک آزادی کی جدوجہد کو جاری نہیں رکھ سکتا جب تک اسے کافی مالی امداد باہر سے نہ ملے- اور جب تک زبردست پروپیگنڈا اس کی تائید میں کشمیر سے باہر نہ کیا جائے- اور اس کام کے لئے معقول رقم چاہئے جس کا مہیا کرنا ان لوگوں کا فرض ہے جو کشمیر سے باہر رہتے ہوئے اس کے مظلوم باشندوں کی ہمدردی کا احساس رکھتے ہیں- منہ سے قربانی کا دعویٰ کرنا یا جلسہ کر دینا یا ریزولیوشن پاس کر دینا گو ایک حد تک مفید ہو لیکن حقیقی ضرورت کو پورا نہیں کر سکتا اس لئے انہیں چاہئے کہ مالی قربانی کی طرف قدم اٹھائیں کہ اس وقت یہی سب سے بڑا کام ہے- دوسرا کام آل انڈیا کشمیر کمیٹی خود کر سکتی ہے لیکن اس قدر روپیہ جو اس کام کے لئے ضروری ہوگا‘ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے لوگ خود جمع نہیں کر سکتے- پس ہر گاؤں اور قصبہ میں اس کے لئے چندہ جمع کر کے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کو بھجوانا چاہئے جو آگے اس رقم کو حسب ضرورت جموں اور کشمیر میں تقسیم کرے گی اور اسی طرح ہندوستان اور بیرون ہند بھی پروپیگنڈا کو جاری رکھے گی- کم از کم ایک لاکھ روپیہ میرا جہاں تک خیال ہے اگر کام کو صحیح طور پر چلایا جائے تو ایک لاکھ روپیہ سالانہ تک خرچ کرنے کیلئے ہمیں تیار رہنا چاہئے کیونکہ اگر ریاست سے سمجھوتہ نہ ہو سکا اور تازہ اطلاعات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ سمجھوتہ کرنے کے لئے ریاست تیار نہیں تو اس صورت میں از سر نو پکڑ دھکڑ شروع ہو جائے گی اور ہزاروں غریب اور نادار خاندانوں کو فاقوں سے بچانے کے لئے ایک معقول رقم ماہوار ہم کو خرچ کرنی پڑے گی- سرِدست ۱۲ ہزار کا بجٹ سردست آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے سامنے قریباً بارہ ہزار روپیہ کا بجٹ پیش ہے- لیکن کام کے لحاظ سے یہ بجٹ بالکل حقیر اور بالکل ناکافی ہے- سال بھر کے لئے اس سے آٹھ دس گنا زیادہ بجٹ ہونا چاہئے- لیکن آلانڈیاکشمیر کمیٹی نے اس وجہ سے ابھی زیادہ جرات نہیں کی کہ اسے اس وقت تک کل آمد پندرہ سولہ سَو روپیہ ہوئی ہے-