انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 145

۱۴۵ ہوگی‘ کچھ حقوق رعایا کو مل جائیں گے- لیکن بعض اہم حقوق جن کے بغیر رعایا حقیقی طور پر ترقی کی طرف قدم نہیں اٹھا سکتی‘ اس پہلی منزل پر نہیں مل سکیں گے اور اس کے لئے ایک لمبی اور نہ تھکنے والی جدوجہد کرنی پڑے گی- اس کی تفصیل کیا ہوگی؟ میں اس سوال کو یہاں نہیں چھیڑ سکتا کیونکہ اس کو بیان کرنے سے کام کے خراب ہو جانے کا اندیشہ ہے- اسے میں انشاء اللہ دوسرے وقت ایسے لوگوں پر ظاہر کروں گا جن کو اس کے معلوم کرنے کی ضروررت ہوگی- کشمیر کو آزادی کس طرح مل سکتی ہے ہاں میں اس وقت یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ کشمیر کو آزادی صرف اہالیان کشمیر کی کوشش سے مل سکتی ہے- باہر کے لوگ صرف دو طرح ان کی مدد کر سکتے ہیں- (۱) روپیہ سے (۲)حکومتبرطانیہ اور دوسری مہذب اقوام میں اہالیان کشمیر کی تائید میں جذبات پیدا کر کے- پس ایک طرف تو اہل کشمیر کو یہ خیال دل سے نکال دینا چاہئے کہ باہر کے لوگ آ کر ان کی کوئی جسمانی مدد کر سکتے ہیں- ان کی مدد اول بے اثر ہوگی دوسرے اس کا آزادی کی کوشش پر الٹا اثر پڑے گا اور جدوجہد کی باگ اہل کشمیر کے ہاتھ سے نکل کر ایسے ہاتھوں میں چلی جائے گی جو بالکل ممکن ہے کہ کسی وقت انہیں فروخت کر ڈالیں اور خود الگ ہو جائیں- پس خود اہل کشمیر کا فائدہ اس میں ہے کہ باہر سے مشورہ لیں‘ مالی امداد لیں لیکن کسی صورت میں بھی جنگ میں شریک ہونے کے لئے انہیں نہ بلائیں تا کہ معاملہ ان کے ہاتھ سے نکل کر دوسروں کے ہاتھ میں نہ چلا جائے- عارضی جوش ان کے کام نہ آئے گا بلکہ مستقل قربانی ان کے کام آئے گی اور مستقل قربانی ملک کے باشندے ہی کر سکتے ہیں- انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ جنگ عظیم میں باوجود اس کے کہ امریکہ جنگ میں شامل ہونے کو تیار تھا‘ خود انگریز اور فرانسیسی اسے جنگ سے روکتے تھے اور آخری ایام میں جب حالت بہت ہی خطرناک ہو گئی تب مجبور ہو کر امریکہ کو شامل ہونے دیا گیا- لیکن بعد میں پھر پچھتاوا پیدا ہوا اور آج تک اتحادی حکومتیں سمجھتی ہیں کہ امریکہ کے شامل ہونے سے انہیں بہت نقصان ہوا کیونکہ امریکہ نے انہیں اس قدر فائدہ نہیں اٹھانے دیا جس قدر وہ اٹھانا چاہتی تھیں- مسلمانان ہند کو قربانی کی نصیحت میں اس موقع پر مسلمانان ہند کو بھی جو کشمیر کے مسئلہ سے ہمدردی رکھتے ہیں‘ کچھ نصیحت کرنی چاہتا ہوں-