انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 143

۱۴۳ کے لئے قربان ہے اور یہ بالکل اور امر ہے کہ میں اپنے مال کا سواں حصہ بھی اس غرض کیلئے قربان کر دوں- لیکن آج کل کچھ ایسا رواج ہو گیا ہے کہ وہ شخص جو اپنا مال خرچ کرتا ہے لیکن ساتھ یہ کہتا ہے کہ جہاں تک مجھ سے ہو سکے گا میں امداد کروں گا‘ دشمن اور بزدل قرار دیا جاتا ہے اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ میں اپنا مال اور اپنی جان تمہارے لئے قربان کر دوں گا اور سب دنیا سے مقابلہ کروں گا خواہ ایک پیسہ بھی خرچ نہ کرے‘ دوست اور حقیقی خیر خواہ سمجھا جاتا ہے- مخلصانہ مشورہ میں اہالیان کشمیر اور ان لوگوں کو جو کشمیر کے لوگوں سے دلچسپی رکھتے ہیں مخلصانہ طور پر مشورہ دوں گا کہ اگر وہ کشمیر کے مسئلہ کو کامیاب طور پر ختم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں خوشامد‘ چاپلوسی اور فخر و تکبر سے متاثر نہیں ہونا چاہئے‘ بلکہ حقیقت کو ننگا کر کے دیکھنا چاہئے اور اپنے دوستوں سے بھی یہی امید رکھنی چاہئے کہ وہ اسی طرح معاملات کو ان کے سامنے پیش کریں تا کہ اصل حالات سے انہیں آگاہی رہے اور سیدھے راستہ سے وہ پھر نہ جائیں- میں نے جو مشورہ اوپر دیا ہے اس کے مطابق سب سے پہلے میں کشمیر کے دوستوں کو اپنی رائے سے اطلاع دیتا ہوں اور جہاں تک میرا خیال ہے میں کہہ سکتا ہوں کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے اکثر ممبر بھی اس رائے میں مجھ سے متفق ہیں- مسلمانان ِکشمیر میں بیداری یاد رکھنا چاہئے کہ کشمیر کے لوگ اپنے لئے آزادی کے لئے کھڑے ہوئے ہیں- ایک لمبا عرصہ تک غلامی کی زندگی بسر کرنے کے بعد اب ان میں بیداری پیدا ہوئی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اگر انہوں نے اور ان کے آباء نے غلامی میں زندگی بسر کی ہے تو ان کی اولاد کم سے کم اس عذاب سے نجات پا جائے- چونکہ زیادہ تر ظلم کا شکار مسلمان ہوئے ہیں اس وجہ سے یہ بیداری بھی زیادہ تر انہی میں پیدا ہو رہی ہے- دوسری اقوام کے لوگ گو اس آزادی سے اتنا ہی فائدہ اٹھائیں گے جس قدر کہ مسلمان لیکن بوجہ اس کے کہ وہ ظلم کی چکی میں مسلمانوں جتنے نہیں پیسے گئے ان میں بیداری کا احساس ابھی مکمل نہیں ہوا بلکہ ابھی وہ مسلمانوں کی آزادی کی کوشش کو اپنی دشمنی سمجھ رہے ہیں اور اس وجہ سے بجائے ہاتھ بٹانے کے مسلمانوں کا ہاتھ روک رہے ہیں-