انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 134

۱۳۴ ہمارے اخلاق بھی دیکھیں- میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ صدارت چھوڑ دینے کے بعد بھی میں اور میری جماعت ان کے ساتھیوں سے بھی زیادہ ان کا ہاتھ بٹائیں گے- صدارت میرے لئے عزت کی چیز نہیں- عزت خدمت سے حاصل ہوتی ہے- سیدالقوم خادھم ۱۰؎ اگر کام نہ کیا جائے تو صرف صدر بننے سے کیا عزت ہو سکتی ہے- وہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی مجنون کہے میں بادشاہ ہوں بغیر خدمت کے اعزاز حاصل نہیں ہو سکتا- میرے ذمہ تو پہلے ہی بہت کام ہے- اتنی عظیم الشان جماعت کا میں امام ہوں اور اس قدر کام- پڑتا ہے کہ بارہ ایک بجے سے پہلے شاید ہی کبھی سونا نصیب ہوتا ہو- میں نے تو یہ بوجھ صرف اس لئے اٹھایا ہے کہ کشمیری مسلمانوں کی آئندہ نسلیں دعائیں دیں گی اور کہیں گی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا بھلا کرے جن کی کوشش سے آج ہم آرام کی زندگی بسر کر رہے ہیں- ان کے لئے بھی موقع ہے کہ کشمیریوں سے دعائیں لیں- ان کی دعائیں عرش الہی کو ہلا دیں گی- وہ کہیں گے الہی! جن لوگوں نے ہمیں آزاد کرایا ہے تو بھی ان کو آزاد کر دے- دیکھو رسول کریم ﷺ نے دنیا کو آزادی دلائی- جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج کروڑوں انسان آپ کے نام پر اپنا سب کچھ نثار کر دینے پر آمادہ ہیں- وہی مغل جنہوں نے اسلام کو مٹانے کے لئے بغداد کو تباہ کیا آخر آ کر آپ کے قدموں پر گر گئے- اور آپ کی محنت ایسی بابرکت ثابت ہوئی کہ آج ساڑھے تیرہ سو سال گذرنے پر بھی آپ کا نام بلند ہو رہا ہے- یہ خدمت کا نتیجہ ہے- دنیا کی چند روزہ واہ واہ کوئی حقیقت نہیں رکھتی- آخر ایک دن خدا کے سامنے جانا ہے اور وہاں کوئی چالاکی اور ہوشیاری کام نہ آ سکے گی- اگر کسی شخص نے دیانتداری سے کام کیا ہے تو خواہ وہ مجرم بھی ہو‘ خدا تعالیٰ ضرور اس پر رحم کر دے گا لیکن جس نے دیانتداری سے کام نہیں کیا‘ اس کا کام خواہ اچھا ہی ہو‘ خدا تعالیٰ یہی کہے گا کہ تیری نیت نیک نہ تھی- آخر میں سب حاضرین سے اور ان سب سے جن تک میرا یہ پیغام پہنچے کہتا ہوں کہ اٹھو اپنے بھائیوں کی امداد کرو- اپنے کام بھی کرتے رہو مگر کچھ نہ کچھ یاد ان مظلوموں کی بھی دل میں رکھو- جہاں اپنے خانگی معاملات اور ذاتی تکالیف کے لئے تمہارے دلوں میں ٹیسیں اٹھتی ہیں‘ وہاں ایک ٹیس ان مظلوموں کے لئے بھی پیدا کرو- اور ان آنسوؤں کی جھڑیوں میں سے جو اپنے اپنے متعلقین کیلئے برساتے ہو اور نہیں تو ایک آنسو ان سِتم رسیدہ بھائیوں کے لئے بھی