انوارالعلوم (جلد 12) — Page 133
۱۳۳ ان کی راہ دیکھ رہے ہوں گے‘ دولہن دولہا کا انتظار کر رہی ہوگی- اس واقعہ سے میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے- ذرا اسے اپنے اوپر قیاس کر کے دیکھو- لیکن کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ کشمیری مسلمانوں پر ایسی ایسی آفتیں اور مصائب نازل ہو رہے ہوں اور یہاں یہ جھگڑے پیدا کئے جائیں حالانکہ چاہئے تھا کہ متحدہ کوشش سے ان کی تکلیف کو دور کیا جاتا- حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ میں شدید اختلاف تھا- جس سے جرات پا کر روم کے بادشاہ نے اسلامی سلطنت پر حملہ کا ارادہ کیا- لیکن حضرتمعاویہؓ نے اسے لکھا- اگر تم نے ایسا کیا تو سب سے پہلا جرنیل جو علیؓ کی طرف سے تمہارے مقابل پر آئے گا وہ معاویہ ہوگا- تو جہاں درد ہوتا ہے وہاں انسان شخصیتوں کا خیال کئے بغیر قربانی کیلئے تیار رہتا ہے- ایک قصہ مشہور ہے کہ ایک خاوند کی دو عورتیں تھیں وہ باہر گیا ہوا تھا پیچھے دونوں کے ہاں لڑکے پیدا ہوئے مگر ایک کا لڑکا مر گیا- اس نے خیال کیا اب میری سوکن کی وقعت خاوند کی نظر میں بڑھ جائے گی اس لئے اس نے دوسری کے بچہ کو اپنا کہنا شروع کر دیا اور یہ جھگڑا اس قدر طول پکڑ گیا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس مقدمہ گیا- وہ حیران تھے کہ اس کا کیا فیصلہ کریں- حضرت سلیمان ان دنوں میں نوجوان تھے انہوں نے کہا کہ اس کا فیصلہ میں کرتا ہوں اور کہا کہ ایک تلوار لاؤ تا کہ اس بچہ کو آدھا آدھا کر کے دنوں میں بانٹ دیا جائے- جس کا بچہ نہیں تھا اس نے تو کہا بے شک ایسا کر دیں لیکن جس کا تھا وہ کہنے لگی آپ ایسا نہ کریں یہ بچہ اس دوسری عورت کا ہے اس لئے اسے ہی دے دیا جائے- غرض جب حقیقی خیر خواہی دل میں ہو انسان ان باتوں کو نہیں دیکھا کرتا بلکہ کام کو دیکھتا ہے- چاہئے تو یہ تھا ان تفرقوں کو بھلا دیا جاتا- اگر کبھی مذہبی مخالفت کا موقع آیا اور کشمیریوں کے لئے ہماری وجہ سے مذہبی خطرہ پیدا ہو گیا تو یاد رکھو وہی لوگ اس کی مخالفت کے لئے اٹھیں گے جو آج میرے ساتھ ہیں کیونکہ یہی اس کے اہل ہیں- ان لوگوں نے اپنی زندگیاں علمی تحقیقاتوں میں صرف کی ہیں اور یہ اپنے اپنے سلسلوں کے لیڈر ہیں- میں احرار والوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگر ان میں سے کوئی یہاں بیٹھا ہو تو جا کر اپنے دوستوں کو سنا دے کہ میں ان پتھروں کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں کرتا اور اس وجہ سے ان پر کوئی غصہ نہیں- انہیں چاہئے کشمیر کے مظلوم بھائیوں کی خاطر اب بھی ان باتوں کو چھوڑ دیں- وہ آئیں میں صدارت چھوڑنے کیلئے تیار ہوں لیکن وہ عہد کریں کہ مسلمانوں کی اکثریت کے فیصلہ کی اتباع کریں گے- ان کے اخلاق آج ہم نے دیکھ لئے ہیں وہ آئیں اور