انوارالعلوم (جلد 12) — Page 125
۱۲۵ گے اور اس سے گورنمنٹ کے دل میں یہ بات میخ کی طرح گڑ گئی ہے کہ اس تحریک میں سب مسلمان متفق و متحد ہیں- اگر اسے تفرقہ کی وجہ سے نقصان نہ پہنچایا جاتا تو یقیناً بہت فائدہ ہو سکتا تھا- پھر جس وقت تار آئی کہ سرینگر میں گولی چلی ہے ہم نے فوراً ایک وکیل وہاں بھیجا جو آج تک وہیں ہے- مظلومین کے لئے روپیہ بھجوایا گیا‘ وہاں کی کمیٹی کے کام کے لئے بھی کچھ امداد ارسال کی گئی- کشمیر کے علاقہ کی بعض کمیٹیوں کی حالت تو ایسی ہے کہ بعضاوقات تار دینے کے لئے بھی ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے- اس لئے نہیں کہ وہ لوگ قربانی کا مادہ نہیں رکھتے بلکہ اس لئے کہ بائیکاٹ وغیرہ کی وجہ سے بعض جگہ کے لوگ جہاں مسلمان کم ہیں سخت اقتصادی نقصان اٹھا رہے ہیں- اور نان شبینہ کے محتاج ہیں- جس وقت یہ امداد کی گئی ہے اس وقت کشمیر فنڈ میں ایک پیسہ بھی نہ تھا لیکن ہم برابر انہیں روپیہ بھیجتے رہے اور پانچ صد روپیہ تو پہلے ہی دن بھیجا تھا- اس کے علاوہ تین کشمیری نوجوانوں کو بھیجا گیا کہ وہ جا کر دیہات میں بیداری پیدا کریں کیونکہ معلوم ہوا تھا حکومت کشمیر کوآپریٹو بنکوں کے کارکنوں کے ذریعہ ناواقف دیہاتیوں سے انگوٹھے لگوا رہی ہے- انہیں کہا تو یہ جاتا ہے کہ سب انگوٹھے لگا دو تمہارے ہاں بنک قائم کر دیا جائے لیکن لکھ یہ لیا جاتا ہے کہ ہم سرکار کے سچے وفادار ہیں- اور سرینگر وغیرہ کے شورش کرنے والوں سے متفق نہیں اور ان کی حرکات کو ناپسند کرتے ہیں حالانکہ سارا کشمیر سوائے چند غداروں یا ناواقفوں کے ریاست کے موجودہ انتظام میں تبدیلی چاہتا ہے- پس اس خوف سے کہ ان کے ان پڑھ ہونے سے فائدہ نہ اٹھایا جائے انہیں اصل حقیقت بتانا ضروری تھا- چنانچہ مجھے شملہ میں ایک اعلیٰ افسر نے کہا کہ ہمارے پاس تو وہاں سے اطلاعات آ رہی ہیں کہ لوگ انگوٹھے لگا کر بھجوا رہے ہیں کہ ہم کو ریاست میں پورا امن حاصل ہے- پس اس بلا کو روکنے کے لئے ہم نے تین آدمی مقرر کئے جو دیہات میں پھر پھر کر لوگوں کو ہوشیار کریں کہ ریاست کے افسروں کے اس قسم کے دھوکوں میں نہ آئیں- پھر جموں میں پولیس کے حملہ کے متعلق جب تار آیا تو اسی وقت ہم نے اپنا نمائندہ وہاں بھجوا دیا- فوٹوگرافر کو بھیجا گیا تا وہ زخمیوں کے فوٹو لے- اور اب ہمارے پاس ڈوگرا حکومت کے مظالم کا زبردست ثبوت ہے- پہلے جب میں نے وائسرائے کو تار دیا کہ وہاں مسلمانوں پر حملہ کیا گیا ہے تو حکومت ہند نے ریاست کو اس کے متعلق تار دیا- اس کے بعد پولیٹیکل سیکرٹری نے مجھے بذریعہ تار اطلاع دی کہ حکومت کشمیر اس سے انکار کرتی ہے- لیکن ہمارے پاس اب فوٹو ہیں اور اس