انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 63

۶۳ میں یاد رکھو کہ اب تم بھی گھروں میں بیٹھ کر حکومت نہیں کر سکو گی- وہ راج کا زمانہ چلا گیا- ساری بڑائیوں کو مٹا کر خدا تعالیٰ اتحاد پیدا کرنا چاہتا ہے- فیصلہ قرآن کے مطابق آج وہ بڑھایا جائے گا جو نیک ہو گا- ان اکرمکم عنداللہ اتقکم ۹؎ کے مطابق متقی عالم ہوتا ہے- قرآن مجید اُمّیوں کو اعلم الناس بنا دیتا ہے دنیاوی لحاظ سے دیکھو حضرت صاحب کو کوئی ایسا دینوی علم حاصل نہ تھا گو ہم اعتقادی طور پر آپ کو عالم مانتے ہیں- آپ نے جو کتابیں لکھی ہیں وہ معجزانہ رنگ میں لکھی ہیں مگر ظاہری طور پر آپ عالم نہ تھے اسی لئے مخالف مولوی آپ کو طعن کے طور پر منشی لکھا کرتے تھے مگر خدا تعالیٰ نے علوم کے دروازے آپ پر کھول دیئے- میرا اپنا حال دیکھو زمانہ طالب علمی میں فیل ہی ہوتا رہا- ایک جماعت بھی پاس نہ کر سکا- اسی بناء پر حضرت صاحب سے لوگوں نے شکایت کی کہ یہ پڑھائی کی طرف توجہ نہیں دیتا- حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے طلب کیا اور ساتھ حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول کو بلایا- میں ڈر رہا تھا کہ دیکھئے میرے لئے کیا سزا تجویز ہوتی ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک عبارت لکھ کر مجھے دی کہ اسے نقل کر دو- جب میں نے اسی طرح نقل کر دی تو مولوی صاحب کو دکھا کر فرمایا کہ شکایت تو غلط معلوم ہوتی ہے- یہ میرا امتحان ہوا- پھر اس کے بعد حضرت خلیفہ اول نے مجھے پڑھایا- ان کے پڑھانے کا یہ طریق تھا کہ آپ ہی ایک ایک سپارہ پڑھتے جاتے- سوال کرنے پر فرماتے کہ میاں آپ ہی آ جائے گا- علمائے زمانہ کو بالمقابل تفسیر القرآن کا چیلنج میرے ظاہری علم کو لیا جائے تو میں کسی صورت میں بھی عالم نہیں کہلا سکتا مگر میں نے قرآن کو قرآن سمجھ کر پڑھا اور اس سے فائدہ اٹھایا- اور اب اس قابل ہوا کہ میں تمام مخالف علماء کو چیلنج دیتا ہوں کہ کوئی آیت لے کر مجھ سے تفسیر کلام الہٰی میں مقابلہ کر لیں میں انشاء اللہ تعالیٰ تائید الہٰی سے اس کے ایسے معنے بیان کروں گا کہ دنیا حیران رہ جائے گی- کوئی مضمون ہو بغیر سوچنے کے کھڑا ہوتا ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ پر علم کے دروازے کھول دیتا ہے- خدا تعالیٰ نے مجھ پر قرآن کریم کے ایسے ایسے نکات ظاہر کئے ہیں جو رسول کریم ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مستثنیٰ کر کے اس تیرہ سو سال کے عرصہ میں کسی سے ظاہر نہیں ہوئے- پس تمام علوم اخلاص اور تقویٰ سے پیدا ہوتے ہیں ظاہر سے نہیں- تم خود اس کو