انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 571 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 571

۵۷۱ فضائل القرآن(نمبر ۳) دیا کرے گی۔اس طرح زیادہ کھلانے کی وجہ سے وہ مرغی مر گئی۔پس اگر انسان اس تعلیم پر عمل کرے کہ اپنا سب کچھ ایک ہی دفعہ دے دے تو وہ آئندہ کے لئے محروم ہوجائے گا اور اپنی قابلیتوں سے کام نہ لے سکے گا۔پھر حَسَرَکے معنی ننگے ہوجانے کے بھی ہیں۔اس لئے مَحْسُوْرًا ۱۵؂ کے معنی یہ بھی ہوئے کہ وہ ننگا ہوجائے گا اور جو ننگا ہو وہ چلنے پھرنے سے معذور ہوجاتا ہے اور گھر میں بند ہوکر بیٹھ رہنے پر مجبور ہوتا ہے۔پس فرمایا۔اگر تم اپنا سارا مال دے دو گے تو پھر تمہیں گھر میں بے کار ہوکر بیٹھنا پڑے گا اور تم کام کے قابل نہ رہو گے۔یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جب دنیا میں لوگ ہمیں محتاج نظر آتے ہیں تو پھر کیا کریں۔کس طرح کچھ حصہ دے کر باقی مال اپنے پاس رکھ لیں؟اس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ رَبَّکَ یَبْسِطُ الرِّزْق لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ اِنَّہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرًا بَصِیْرًا جب کسی کے پاس دولت آتی ہے تو ہمارے مقررہ قانون کے ماتحت آتی ہے۔ہم اسی کو دولت دیتے ہیں جس میں دولت کمانے کی قابلیت ہوتی ہے۔اگر ایسی قابلیت رکھنے والوں کو ناقابل کردیا جائے تو دنیا میں تباہی آجائے۔جو لوگ بڑھتے اور ترقی کرتے ہیں ان میں بڑھنے کی خاص قابلیت ہوتی ہے۔اگر ان سے سارے کا سارا مال لے کر غریبوں اور محتاجوں میں بانٹ دیا جائے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ کمانے کی قابلیت رکھنے والے بھی روپیہ نہ کما سکیں گے اورملک تباہ ہوجائے گا۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے ہم جسے دولت دیتے ہیں اسی قانون کے ماتحت دیتے ہیں کہ اس میں ترقی کرنے کی قابلیت ہوتی ہے اور اسی لیے دیتے ہیں کہ وہ ترقی کرے۔چونکہ ایسے لوگوں کا سارے کا سارا مال دے دینا قوم کی تباہی کا موجب ہوسکتا ہے اس لئے ہم اس کی اجازت نہیں دیتے۔وہ لوگ قابلیت رکھتے ہیں انڈسٹری کی۔وہ قابلیت رکھتے ہیں تجارت کی۔وہ قابلیت رکھتے ہیں صنعت و حرفت کی۔اگر ان کا سارے کا سارا مال فقیروں میں بانٹ دیا جائے تو پھر وہ ترقی نہ کر سکیں گے۔غرباء اور مساکین کے پاس تو جو کچھ جائے گا وہ اسے کھا جائیں گے۔لیکن ایک تاجر کے پاس مال رہتا ہے تو وہ اس سے اور کماتا ہے۔اور نفع میں سے اپنے اوپر بھی خرچ کرتاہے اور غریبوں کو بھی دیتا ہے۔رہی یہ بات کہ پھر بھی ایسے لوگ رہ جاتے ہیں جن کو دیکھ کر رحم آتا ہے تو اس کے متعلق فرمایا اِنَّہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرًا بَصِیْرًا ہم اپنے بندوں کی حالت کو خوب جانتے ہیں