انوارالعلوم (جلد 11) — Page 450
۴۵۰ صوبہ کے قانون اساسی کے متعلق آخری ہوگا اور اگر صوبہ جات یا مرکزی حکومت کو اس پر اعتراض ہو تو وہ صرف مقررہ قواعد کے رو سے قانون اساسی میں ترمیم کر سکتے ہیں- (۱۶( ہر ترمیم قانون اساسی کی جو مقررہ اصول کے مطابق نہ ہو جائز نہ ہوگی- (۱۷( عبادت گاہوں کا بنانا، مذہبی نظام کیلئے انجمنوں یا خاص نظام کا بنانا، مذہبی مدارس، اوقاف وغیرہ میں کسی قسم کی دست اندازی نہیں کی جائے گی- یہ چند امور میں نے ایسے گنائے ہیں کہ جن کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں ورنہ کانسٹی چیوشن میں اور کئی امر لانے پڑیں گے لیکن یہ کام قانون سازوں کا ہے وہی کامل بحث و تمحیص کے بعد اس کی تفصیلات کو طے کر سکتے ہیں- ہاں میں اس قدر کہنا چاہتا ہوں کہ مرکزی حکومت کے اختیار مقرر کرتے وقت (۱) یہ نہ کیا جائے کہ جو اختیارات اس وقت مرکزی حکومت کو حاصل ہیں انہی کو قائم رہنے دیا جائے کیونکہ وہ اختیارات بہت زیادہ ہیں- چاہئے کہ امریکنکانسٹیچیوشن اور نہرو رپورٹ کے بتائے ہوئے مرکزی حقوق کو ملا کر اس کے درمیان میں راہ نکالی جائے- امریکن نظام حکومت میں بہت تنگی سے کام لیا گیا ہے اور نہرو رپورٹ میں مرکز کو بہت اختیار دیئے گئے ہیں- (۱) سول لاء اس وقت مرکزی حکومت کے ماتحت ہے نہرورپورٹ نے بھی اسے مرکز کے ماتحت رکھنے کی تجویز کی ہے لیکن کامل فیڈرل حکومتوں میں سول لاء (CIVIL LAW) زیادہ تر ریاستی حکومتوں کے متعلق ہوتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہئے کیونکہ سول لاء درحقیقت ملک کی تہذیب کا آئینہ ہوتا ہے- اور تہذیب کا اختلاف ہی اتحادی حکومت کا باعث ہوتا ہے- پس عقلاً تو سول لاء صوبہ جات کے سپرد ہونا چاہئے لیکن چونکہ اس وقت تک سول لاء ہندوستان میں ایک ہی ہے اس لئے اس کا بدلنا بھی اب ٹھیک نہیں- پس اگر یہ شرط کر دی جائے کہ شادی، بیاہ، ورثہ، طلاق وغیرہ معاملات کے متعلق جو اہلیقانون کہلاتا ہے قوانین بنانا مرکزی حکومت کے نہیں بلکہ صوبہ جاتی حکومتوں کے سپرد ہوگا تو اس طرح وہ حصہ قانون کا جس میں مختلف علاقوں کے لوگوں میں مختلف دستور ہیں مرکز کے اختیار سے باہر ہو جائے گا اور بغیر سارے سول لاء کو منسوخ کرنے کے فیڈرل اصول کی حفاظت بھی ہو جائے گی- پس اول تو اہلی قانون میں حکومت دخل ہی نہ دے گی اور اگر کسی جماعت کے