انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 425

۴۲۵ باب چہارم عدالت سائمن کمیشن کی رپورٹ کے کمزور ترین مقامات میں سے اس کی وہ سفارش ہے جو اس نے ہائی کورٹوں کو گورنمنٹ آف انڈیا کے ماتحت کرنے کے متعلق کی ہے اس کی ساری دلیل یہ ہے کہ بنگال کا ہائی کورٹ چونکہ گورنمنٹ آف انڈیا کے ماتحت ہے اور باقی سب ہائی کورٹ انتظامی لحاظ سے صوبہ جات کی حکومتوں کے ماتحت ہیں اس لئے سب ہائی کورٹوں کو ایک انتظام میں لانے کیلئے ضروری ہے کہ وہ سب گورنمنٹ آف انڈیا کے ماتحت کر دیئے جائیں- حالانکہ ایک کورٹ کی خاطر باقی سب ہائی کورٹوں کا انتظام تبدیل کرنا بالکل خلاف عقل ہے اگر وہ یہ سفارش کرتے کہ بنگال ہائی کورٹ بھی گورنمنٹ بنگال کے ماتحت کر دیا جائے تو یہ زیادہ مناسب مشورہ ہوتا- کمیشن کی دلیل صرف یہ ہے کہ بنگال ہائی کورٹ کے ساتھ چونکہ آسام کی عدالتیں بھی ملحق ہیں اس وجہ سے ضروری ہے کہ حکومت ہند کے ماتحت وہ ہائی کورٹ ہو اور چونکہ آئندہ اور صوبہ جات کے بننے کا بھی احتمال ہے جو کہ ممکن ہے کہ الگ ہائی کورٹ کا خرچ برداشت نہ کر سکیں اس لئے ضروری ہے کہ اختلاف انتظام سے بچنے کیلئے سب کورٹ گورنمنٹ آف انڈیا کے پاس آ جائیں- یہ دلیلیں اپنی ذات میں بہت کمزور ہیں- آسام کی عدالتیں اگر بنگال کے ساتھ ملحق ہیں تو اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ آسام کو کچھ رقم خرچ کیلئے بنگال کے حوالے کرنی پڑتی ہے- لیکن یہ کوئی ایسی وجہ نہیں کہ جس کی وجہ سے بنگال ہائیکورٹ کو گورنمنٹ آف انڈیا کے ساتھ ملایا جائے- اصل بات یہ ہے کہ بنگال ہائی کورٹ کی گورنمنٹ آف انڈیا کے ماتحت ہونیکی یہ وجہ ہی نہیں- یہ تو اس وقت سے چلا آتا ہے جب کہ گورنر جنرل براہ راست بنگال کا حاکم سمجھا جاتا تھا پس اس رسم دیرینہ کے بدلنے کی بجائے جس میں کوئی معقولیت نہیں باقی ہائی کورٹوں کو کیوں خراب کیا جائے- مختلف آزاد ممالک اگر