انوارالعلوم (جلد 11) — Page 424
۴۲۴ کیونکہ دوسری مجالس کی شکلیں کئی قسم کی ہیں- ایسے قوانین بنائے جا سکتے ہیں جن سے اس امر کی حفاظت ہو جائے کہ جو کام ہم ان مجالس سے لینا چاہتے ہیں وہ بھی لئے جا سکیں اور بلاوجہ کسی کا حق بھی نہ مارا جائے- پس ان سب حالات کو مدنظر رکھ کر میرا خیال یہ ہے کہ مرکزی حکومت میں فوراً سیکنڈ چیمبر جاری کی جائے مگر وہ کسی اصول کے ماتحت ہو- یہ نہ ہو کہ بجائے پہلی اور دوسری مجلس کے دو مجالس عام قائم ہو جائیں اور یونہی وقت اور روپیہ ضائع ہو- صوبہ جات کے متعلق میری رائے یہ ہے کہ ابھی چونکہ نیابتی حکومت سے ہندوستان پورا واقف نہیں اس لئے قانون اساسی میں تو اس کے وجود کو تسلیم کر لیا جائے لیکن شرط یہ کر دی جائے کہ پندرہ سال کے بعد ہر مقامی کونسل کو اختیار ہوگا کہ وہ اپنی کثرت رائے سے دوسری مجلس کے قیام کا فیصلہ کر دے- لیکن قواعد دوسری چیمبر کے یا کم سے کم اس کے لئے اصول ابھی سے مقرر کر دیئے جائیں- دوسری مجلس کے متعلق میری رائے یہ ہے کہ اس کی ضرورت بہت اہم ہے اسے فوراً قائم کر دینا چاہئے مگر اس شکل میں نہیں جس میں مانٹیگوچیمسفورڈ سکیم نے اسے قائم کیا ہے بلکہ اس کی اصل صورت جس کا بیان میں انشاء اللہ مرکزی حکومت کے ذکر میں کروں گا-