انوارالعلوم (جلد 11) — Page 369
۳۶۹ اجازت ہو- (۴) وزارت کے خلاف صرف بحیثیت مجموعی اظہار ناراضگی ہو سکتا ہے ایک وزیر کے خلاف نہیں ہو سکتا- (۵) وزراء کے علاوہ نائب وزراء کی جگہیں بھی نکالی جائیں- اس سے ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ جہاں مذہبی اختلاف شدت سے ہوگا وہاں دو مختلف مذاہب کے وزیر اور نائب وزیر مقرر کر کے ایک دوسرے کے ظلم سے حفاظت کی جا سکے گی- مذکورہ بالا اصول کی اصل غرض یہ بتائی گئی ہے کہ وزارت ہر روز تبدیل نہ ہوگی بلکہ ایک حد تک مستقل عرصہ حیات اسے مل جائے گا اور اس طرح وہ اچھا کام کر سکے گی- دوسرے یہ کہ وسیع حلقہ انتخاب کی وجہ سے زیادہ اعلیٰ کارکنوں پر مشتمل وزارت تیار ہو سکے گی- میرے نزدیک یہ سفارش کمیشن کی کہ نائب وزراء کی جگہیں بھی نکالی جائیں، بہت معقول ہے لیکن میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ اس کا حکومت کے بنیادی قوانین سے کیا تعلق ہے؟ یہ معاملہ صوبہ جاتی کونسلوں سے متعلق ہے اور انہی پر اسے چھوڑ دینا چاہئے- اس وقت قانون میں صرف یہ بات رکھ دینی چاہئے کہ نئے طریق پر مقرر ہونے والی صوبہ جاتی کونسلوں کے معاً بعد گورنر ایک شخص کے سپرد وزارت بنانے کا کام کرے اور وہ پہلے اجلاس میں پریزیڈنٹ کے انتخاب کے بعد اپنی ضرورتوں کو پیش کر کے کونسل سے وزارتوں اور نائب وزارتوں کی تعداد مقرر کرا لے- اس طرح ہر صوبہ میں اس کی ضرورت کے مطابق وزراء مقرر ہوں گے- یہ طریق درست نہیں کہ بے تعلق اور بغیر تجربہ کئے کچھ لوگ انگلستان میں بیٹھ کر سب صوبوں کی ضرورتوں کا آپ ہی قیاس کر کے وزارتیں مقرر کر دیں- اور نہ گورنروں کے سپرد یہ کام ہونا چاہئے کیونکہ یہ کام کونسلوں کا ہے کہ وہ ان کاموں کی جو انہوں نے جاری کرنے ہیں تعیین کریں- پس انہی کا یہ کام بھی ہونا چاہئے کہ وہ کام کے مطابق عہدے بھی تجویز کریں اور اسی طرح تنخواہیں مقرر کرنا بھی ان کا کام ہے- ہاں وہ تنخواہیں ذاتی نہیں ہونی چاہئیں یعنی یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ہر وزیر کے تعین پر تنخواہ بدلی جا سکے- ہاں یہ شرط ہونی چاہئے کہ اگر سول سروس میں سے کسی کو وزیر مقرر کیا جائے تو اس کی تنخواہ اگر وزیر کی تنخواہ سے زائد ہو تو اسے اس کی زائد تنخواہ ملتی رہے- باقی جو امور کمیشن نے وزارت کے متعلق مقرر کئے ہیں گو بظاہر معمولی