انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 339

۳۳۹ حکمران تو نہیں ہوگئی- دوسری صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ آئین اساسی بنانے والوں کے سامنے یہ سوال ہوتا ہے کہ اکثریت ہی کہیں اقلیت کو نہ کھا جائے- اور بعض ایسی اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت ان کے مدنظر ہوتی ہے کہ جو اسی شرط پر اس نظام حکومت میں شامل ہونے کے لئے تیار ہوتی ہیں کہ ان کی جداگانہ ہستی معرض خطر میں نہ آئے- اس صورت میں آئین اساسی کے بنانے والے صرف یہ امر مدنظر نہیں رکھتے کہ اکثریت کے حقوق تلف نہ ہو جائیں بلکہ ایسے قواعد بناتے ہیں جن کی مدد سے اقلیتیں اکثریت کے حملہ سے محفوظ رہیں اور اس صورت میں قانون اساسی کے توڑے جانے کے احتمال کے وقت بھی فیصلہ اکثریت کے سپرد نہیں کیا جاتا بلکہ کسی اور محکمہ کے سپرد یہ کام کیا جاتا ہے- یہ امر ظاہر ہے کہ جس ملک کے قواعد کی غرض چند بااثر افراد کی حکومت سے اپنے ملک کو بچانا ہو ان کے لئے بہترین سپریم کورٹ ملک کی اکثریت کی رائے ہی ہو سکتی ہے کیونکہ چند اشخاص کے فیصلہ سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ ملک کا اکثر حصہ اس کا موید ہے لیکن ملک کے اکثر حصہ کا فیصلہ اگر حاصل ہو جائے تو پوری طرح تسلی ہو جاتی ہے کہ اکثریت کی حکومت کا مدعا پورا ہو رہا ہے- برخلاف اس کے جس ملک کا اساس اس اصل پر ہو کہ بعض جماعتوں یا صوبوں کی منفردانہ شخصیت کو نقصان سے بچایا جائے- اس میں اگر سپریم کورٹ ملک کی اکثریت کی رائے کو قرار دیا جائے تو یہ گویا اس غرض کو ہی باطل کرنا ہوگا جس کے لئے قانون اساسی بنایا گیا تھا- جس اکثریت کی دست اندازی سے بچنا مقصود تھا اسی کو جج بنا لینا ایک فریق مقدمہ کے اختیار میں فیصلہ کا اختیار دے دینے کے مترادف ہے- خلاصہ یہ کہ ان دونوں صورتوں میں الگ الگ قسم کے سپریم کورٹ کا ہونا ضروری ہے- پہلی صورت میں ملک کی اکثریت کا فیصلہ ہی قانون اساسی کی حفاظت کر سکتا ہے اور دوسری صورت میں اکثریت کے فیصلہ پر چھوڑ دینا قانوناساسی کی غرض کو باطل کر دیتا ہے- پس انہی مختلف حالات کے ماتحت سوئٹنررلینڈ جس کے آئین اساسی بنانے والوں کے سامنے چند بااثر افراد کی حکومت کا خطرہ تھا انہوں نے اپنے ملک کے آئین اساسی کا مفہوم بتانے کا اختیار ایسے سپریم کورٹ کو دیا جس میں سب افراد ملک شامل تھے اور یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ جسے یہ خطرہ نہیں تھا بلکہ جس کے اجزائے ترکیبی یعنی مختلف ریاستوں کے اوپر ایک ہی خیال حکومت کر رہا تھا کہ یہ نیا نظام کہیں ہماری مستقل حیثیت کو نہ