انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 306

۳۰۶ اب ایک اقلیت رہ گئی ہے جس کا میں نے اب تک ذکر نہیں کیا- اس اقلیت کے خوف میرے نزدیک بناوٹی ہیں اور صرف زائد حقوق لینے کے لئے پیش کئے جاتے ہیں یہ اقلیت سکھوں کی ہے- سکھ تمدنی طور پر ہندوؤں کا ایک حصہ ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ان میں آپس میں چھوت چھات نہیں، ان میں سے بعض آپس میں رشتہ داریاں بھی کر لیتے ہیں، بہت سے ہندو تہواروں میں شمولیت اختیار کرتے ہیں، بعض ان میں سے مقدس ہندو جگہوں کی زیارت کیلئے بھی جاتے ہیں- غرض تمدنی طور پر سکھ ہندوؤں کا حصہ ہیں گو مذہباً وہ بہ نسبت ہندوؤں کے مسلمانوں کے بہت زیادہ قریب ہیں- ان کے تمدنی طور پر ہندوؤں کا حصہ ہونے کا بہت بڑا ثبوت یہ ہے کہ جبکہ ہندو ملازمتوں وغیرہ میں مسلمانوں کو باہر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں سکھوں سے ان کا یہ سلوک نہیں ہے- ہندو انجنیئروں کی بدولت مسلمان ریلوے اور نہروں اور پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے ٹھیکوں سے قریباً محروم ہیں لیکن ان محکمہ جات میں ٹھیکہ داری کا کام سکھوں کو اسی طرح مل جاتا ہے جس طرح ہندوؤں کو اور اس کی بدولت سکھ اکثر بڑے بڑے مالدار ہیں- غرض اقتصادی اور تمدنی بائیکاٹ سے یہ لوگ مستثنیٰ ہیں- پس ان کا ہندوؤں سے الگ ایک اقلیت کے طور پر اپنے آپ کو پیش کرنا درست نہیں- اول تو یہ لوگ تمدنی، سیاسی یا اقتصادی طور پر اقلیت کہلا نہیں سکتے کیونکہ ان تینوں امور میں یہ ہندوؤں کے ساتھ کامل یگانگت رکھتے ہیں- دوسرے اس لئے کہ اگر یہ اقلیت ہوں بھی تو وہ یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ کسی شعبہ زندگی میں ان سے بے انصافی ہوئی ہے اپنے حق سے زیادہ ہی ہر چیز ان کو مل رہی ہے- پنجاب کی آبادی میں یہ چودہ فیصدی ہیں لیکن بیس فیصدی حق لے رہے ہیں- ان حالات میں ان کا اپنی زیست کے متعلق خوف ظاہر کرنا میرے نزدیک درست نہیں- لیکن اگر یہ قوم بھی واقعات سے یا دوسری قوموں کے ارادوں سے یہ ثابت کر دے کہ ان کے ساتھ دشمنی کی جاتی ہے اور ان کے حقوق تلف کئے جاتے ہیں یا ان کے تلف کئے جانے کا حقیقی خوف ہے تو اپنے حق اور خوف کے مطابق حفاظت کے یہ بھی ویسے ہی حق دار ہیں جیسے کہ اور اقلیتیں ہیں اور کسی کا حق نہیں کہ انہیں ان کے جائز مطالبات سے محروم رکھنے کی کوشش کرے- دوسرا اصل جسے آئین اساسی کے تجویز کرتے وقت مدنظر رکھنا ضروری ہے یہ ہے کہ