انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 264

۲۶۴ علاوہ ازیں قابلیت خود ایک مبہم لفظ ہے- اس کے معنی نہ کتابی علم کے ہیں اور نہ مختلف زبانیں جاننے کے- ایک شخص یا ایک قوم باوجود بالکل ان پڑھ ہونے کے حکومت کے قابل ہو سکتی ہے- چنانچہ لارڈ برائس جو آئینِ اَساسی کے سب سے بڑے ماہر گزرے ہیں لکھتے ہیں کہ-: ‘’اس کی مثالیں مل سکتی ہیں کہ عوام الناس نے بعض ملکوں میں اسی طرح اپنے رائے دہندگی کے حق کو خوبی سے ادا کیا ہے جس طرح کہ ان لوگوں نے جو تعلیم یافتہ کہلاتے ہیں’‘- ۷؎ نیز تاریخ سے اس کی مثالیں ملتی ہیں کہ ایسے ممالک جن میں تعلیم کم تھی ان میں اپنے ملک کے مناسب حال رسپانسیبل گورنمنٹ جاری تھی- پس محض اس وجہ سے کہ ہندوستان کے لوگ اس قدر تعلیم یافتہ نہیں ہیں جس قدر کہ اس زمانہ میں یورپ کے لوگ ہیں ہندوستان کو آزادی کے قابل نہ سمجھنا درست نہیں ہے- ہندوستانی گو دوسرے ملکوں کے لوگوں پر حکومت کرنے کے قابل نہ ہوں لیکن وہ اپنے ملک پر حکومت کرنے کے ضرور قابل ہیں- اور حق تو یہ ہے کہ اگر ان عارضی حالات کو نظر انداز کر دیا جائے جن کے ماتحت ایک قوم دوسری قوم کے ملک پر قبضہ کرنے کے لئے مجبور ہو جاتی ہے تو حقیقت یہی ہے کہ دنیا میں کوئی ایسی قوم نہ پیدا ہوئی ہے اور نہ جب تک سب اقوام انسانیت کے دائرے کے اندر محدود رہتی ہیں پیدا ہو سکتی ہے کہ جو دوسری اقوام پر ان کی مرضی کے خلاف حکومت کرنے کے قابل ہو- حقیقت یہ ہے کہ اصول سیاست کے مطابق قابلیت صرف حکومت کرنے کی خواہش کا نام ہے- یہی سب سے اہم امر ہے جسے ہمیں مدنظر رکھنا چاہئے اور جب کسی ملک میں یہ خواہش زور کے ساتھ پیدا ہو جائے تو ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ اس قوم کو آزادی دے دینی چاہئے- کیونکہ تعلیم سے بھی زیادہ یہ خواہش اہمیت رکھتی ہے- لارڈ برائس کی یہ تحریر صداقت سے پر ہے کہ-: ‘’یہ بات جو کہی جاتی ہے بالکل سچی ہے کہ علم اور تجربہ اور نیز ذہانت کسی قوم کو آزاد حکومت کا مستحق بنانے کے لئے نہایت ضروری امور ہیں- لیکن تجربہ نہ ہونے سے بھی زیادہ خطرناک نقص جو اس مقصد کے حصول کی راہ میں ہوتا ہے وہ افراد قوم میں آزادی کی خواہش کا موجود نہ ہونا ہے’‘- ۸؎ یہ بالکل سچ ہے کہ سلف گورنمنٹ (SELF GOVERNMENT) بغیر عوام الناس میں