انوارالعلوم (جلد 11) — Page 158
۱۵۸ مسیح موعود کا زمانہ ہے اور اسے قیامت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔اور بتایا ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جب مسلمانوں کی تباہی اور بربادی انتہا کو پہنچ چکی ہو گی اس وقت خدا تعالیٰ پھر ان کو دوبارہ زندہ کرے گا۔یہ پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے متعلق ہے کہ مسلمان تباہ و برباد ہو نے کے بعد پھر ترقی کریں گے اور ا س بات کا پورا ہونا بتا دے گا کہ قرآن ایسے منبع سے نکلا ہے جہاں سے کوئی بات غلط نہیں نکلتی۔جب یہ بات پوری ہو جائے گی تو لوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ مرنے کے بعد کے متعلق بھی قرآن جو کچھ کہتا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔دوسری بات یہ بیان فرمائی کہ انسان کے اندر جو نفسِ لوّامہ رکھا گیا ہے وہ بھی قیامت کا ثبوت ہے۔انسان جب کوئی گناہ کی بات کرتا ہے تو اس پر اس کا نفس اسے ملامت کرتا ہے۔ایک چھوٹا بچہ بھی جب جھوٹ بو ل رہا ہوتا ہے تو سمٹتا اور سکڑتا جاتا ہے کیونکہ نفس لوامہ جو ا س کے اندر موجود ہے وہ اسے شرم دلا رہا ہو تا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے یہی نفس لوّامہ جس کے نتیجہ میں انسان محسوس کرتا ہے کہ اخلاق کیا ہیں اور بد اخلاقی کیا ہے۔گناہ کیا ہے اور ثواب کیا ہے۔اس بات کا ثبوت ہے کہ قیامت کا بھی ایک دن مقرر ہے ورنہ اس کے اندر ندامت کا یہ احساس کیوں پیدا ہو تا۔اس طرح قرآن کریم عذاب اور انعام کی تمام تفصیلات بتاتا ہے اور ان کی حکمتیں بتاتا ہے اور سزااور اس کی غرض اور انعام اور اس کا مقصد اور طریقِ سزااور طریقِ انعام غرض ہر ایک پہلو پر مفصل روشنی ڈالتا ہے جس کی مثال دوسری کتب میں بالکل نہیں ملتی اور اگر ملتی ہے تو ناقص طور پر۔پس ضرورت مذہب کے بیان کرنے میں بھی اسلام دوسرے مذاہب سے افضل ہے۔خدا تعالیٰ سے اتّصال پیدا کرنے اور روحانی طاقتوں کو تکمیل تک پہنچانے والا مذہب (۵)اب میں پانچویں بات بیان کرتا ہوں کہ جو ضرورتیں کوئی مذہب پیش کرے اس کا فرض ہے کہ وہ انہیں پورا بھی کرے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس میں سوائے قرآن کریم کے اور کوئی کتاب پوری نہیں اترتی۔صرف قرآن کریم ہی ہے جو اس امر کا مدعی ہے کہ جب تک کوئی مذہب خدا تعالیٰ سے اتّصال پیدا نہیں کرا تا اور روحانی طاقتوں کو مکمل نہیں کراتا اور اخروی بھلائی کی ضمانت اسے نہیں دیتا اس کی خالی تعلیم ا سے نفع نہیں پہنچا سکتی۔