انوارالعلوم (جلد 11) — Page 150
۱۵۰ فطرت انسانی کی روحانی طاقتوں کا اظہار کلام الٰہی کے بغیر نہیں ہو سکتا اب ایک اور سوال ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ اگر روح کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے تو وہ قرآن کریم کی تعلیم کو کس طرح سمجھ سکتی ہے۔یہ بات ایک اور آیت سے حل ہو جاتی ہے جس سے ظاہر ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے روحانی طاقتوں کو فطرت انسانی سے بھی وابستہ قرار دیا ہے اور تسلیم کیا ہے کہ روح میں بھی کلام الٰہی موجود ہوتا ہے مگر مخفی طور پر۔اور وہ اپنے ظہور کے لئے بیرونی کلام الٰہی کا محتاج ہو تا ہے۔پس تھوڑا علم ہو نے کا یہ مطلب نہیں کہ فطرت انسانی کو روحانی طاقتوں سے لگاؤ نہیں۔لگاؤ ہے مگر ان طاقتوں کا ظہور سوائے کلام الٰہی کے نہیں ہو سکتا۔چنانچہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّہ‘لَقُرْاٰنٌ کَرِیْمٌ۔فِیْ کِتَابٍ مَکْنُوْنٍ۴۹یعنی قرآن کریم میں جو تعلیمات ہیں وہ فطرت انسانی میں جو مظہر ِروح ہیں موجود ہیں۔کیونکہ انسان اسی شے سے فائدہ اٹھاسکتا ہے جو اس کے اندر بھی موجود ہو۔غیر جنس اسے نفع نہیں دے سکتی۔جیسے اگر کان نہ ہوتو سننا ناممکن ہے اور آنکھیں نہ ہوں تو دیکھنا ناممکن ہے۔یا اس کی مثال پانی کی سی ہے کہ جب اوپر سے پانی برستا ہے تو چشمے بھی جاری ہو جاتے ہیں اوراگر آسمان سے پانی نہ برسے تو چشمے بھی خشک ہو جاتے ہیں۔اسی طرح جب خدا تعالیٰ کی وحی کا پانی نازل ہوتا ہے تو روح انسانی سے بھی روحانی پانی ابلنے لگتا ہے۔کیونکہ الٰہی کلام اور انسانی فطرت ایک دوسرے کے لئے بطور جوڑے کے ہیں۔ایک لفظوں میں کتاب الٰہی ہو تی ہے اور دوسری فطرت میں مرکوزہو تی ہے۔اور وہی کتاب الہامی ہو سکتی ہے۔جو انسانی فطرت کے مطابق ہو پس انسانی فطرت میں بھی کلام الٰہی ہو تا ہے مگر اسے ابھارنے کے لئے الہام کی ضرورت ہو تی ہے خدا تعالیٰ نے ایک طرف تو اپنے کلام کا ایک حصّہ انسان کے دماغ میں رکھ دیا اور دوسرا حصہ اس نے اپنے نبی کو دے کر بھیج دیا۔جب یہ دونوں حصّے ایک دوسرے کے ساتھ جڑجاتے ہیں تو اسے خدا کی طرف سے سمجھ لیا جاتا ہے۔سفرِ ولایت کے ایام کا ایک واقعہ اس موقع پر میں ایک لطیفہ سناتا ہوں۔جب میں ولایت سے واپس آیا تو جس جہاز پر ہم سوار ہوئے اس کا چیف انجینئرایک دن جہاز کی مشینری دکھانے کے لئے مجھے لے گیا۔اور دکھانے کے بعد کہنے لگا کہ آپ اپنے سیکرٹریوں کو واپس بھیج دیں۔میں آپ کے ساتھ ایک خاص بات کرنا چاہتا