انوارالعلوم (جلد 11) — Page 83
۸۳ لو- اس طرح بھی جماعت کی بہت ترقی ہو سکتی ہے- مجھے یہ سن کر رونا آتا ہے کہ آپس کی لڑائی جھگڑے کی وجہ سے ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنی چھوڑ دی جاتی ہے- نماز اللہ تعالیٰ کا فرض ہے نہ کہ زید و بکر کا- اگر احمدیت میں غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنی جائز ہوتی، میں تو جا کر مولوی ثناء اللہ جیسے لوگوں کے پیچھے بھی نماز پڑھتا اور بتاتا کہ ہمیں ان سے کوئی بغض یا کینہ نہیں ہے- اگر کوئی اپنے بھائی کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا جسے خدا نے ماں جائے بھائی سے بھی بڑھ کر تعلق والا بنایا ہے تو وہ اپنے ساتھ آپ دشمنی کرتا ہے- پس آپس کا تفرقہ دور کرو اور اتحاد پیدا کرو اس طرح بھی جماعت بہت ترقی کر سکتی ہے- مالی حالت کو درست کرنے کی ایک صورت وہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے الہام الہٰی سے مقرر فرمائی ہے اور وہ وصیت ہے- مجھے یہ معلوم کر کے تعجب ہوا کہ عورت مرد ملا کر ابھی تک دو ہزار نے بھی وصیت نہیں کی حالانکہ جماعت کی تعداد بہت زیادہ ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے وصیت کو جزو ایمان قرار دیا ہے- احباب کو اس کی طرف توجہ کرنی چاہئے- اور یوں بھی بیت المال والے کسی نہ کسی طرح وصیت کے قریب قریب چندہ وصول کر ہی لیتے ہیں- مالی لحاظ سے ہی یہ بھی کہتا ہوں کہ قرآن کریم کے پارے اور رسول کریم ﷺ کی لائف (LIFE) بھی شائع ہو گی- اس کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے- کم از کم تین ہزار تعداد چھپے تو سستی قیمت رکھی جا سکتی ہے- ابھی سے جماعتیں ذمہ داری لے لیں کہ اتنی اتنی تعداد وہ خود خرید لیں گی یا بکوائیں گی- اس میں امداد کرنے کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ بک ڈپو سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی کتب خریدی جائیں اس طرح فنڈ جمع ہو سکتا ہے- انہی دنوں حوالہ دیکھنے کیلئے میں نے حضرت مسیح موعود علیہالسلام کی کتاب کشتی نوح نکالی تو اس پر لکھا تھا بار چہارم چھپی- اور ایک ہزار تعداد تھی- اس طرح گویا وہ چار ہزار چھپی- اگر ہر شخص ایک ایک کتاب اپنے پاس رکھتا تو کم از کم ایک لاکھ چھپ سکتی تھی- سب دوستوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابیں پڑھنی چاہئیں کہ ان میں ہماری راہ نمائی کی گئی ہے- اب میں اس اہم فرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں جس کی طرف کم توجہ ہے- اور وہ تبلیغ ہے- پچھلے سال میں نے تحریک کی تھی کہ احباب اس میں خاص طور پر حصہ لیں اور کم از کم اپنے پایہ کا ایک ایک آدمی سال میں احمدی بنانے کا وعدہ کریں- اس قسم کا وعدہ دو سو چھیاسی