انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 51

۵۱ بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلي على رسؤله الكريم افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۲۹ء (فرمودہ ۲۷- دسمبر ۱۹۲۹ء) تشہّد، تعوّذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا-: آج چونکہ جمعہ ہے اور اس کے خطبہ میں مجھے پھر کچھ بولنا پڑے گا اس لئے میں نہایت اختصار کے ساتھ تمام احباب کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ان دنوں میں خصوصیت سے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کریں کہ وہ اپنے فضل اور کرم سے اس حصہ عمل کو جو ہمارے اختیارات سے باہر ہے اور اس حصہ عمل کو جو ہماری کوتاہیوں کی وجہ سے ہم سے سر انجام نہیں پا سکتا خود اپنے فضل اور لطف سے پورا کر دے- انسان کے ارادے بہت بڑے بڑے ہوتے ہیں اور گھر میں بیٹھ کر ارادے کر لینا کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن وہ حصہ جس سے نفع اور فائدہ حاصل ہو سکتا ہے وہ وہی ہے جس کے ساتھ عمل شامل ہوتا ہے- ارادے ایمان کا جزو ہوتے ہیں اور ایمان کی تمثیل ایک کھیتی کی سی ہے اور عمل کی تمثیل خداوند کریم نے نہر اور پانی سے دی ہے- اور وہی کھیتی سرسبز اور شاداب ہو سکتی ہے جسے موقع پر پانی دیا جائے ورنہ خواہ بہتر سے بہتر بیج عمدہ سے عمدہ زمین میں ڈالا جائے لیکن اس زمین میں نمی اور تری نہ ہو اسے وقت پر پانی نہ دیا جائے تو وہ غلہ پیدا نہیں کر سکتی اور اپنے ثمرات نہیں دے سکتی- پس ہمارے ارادے، ہمارے خیالات اور ہماری جنگیں تبھی نفع دے سکتی ہیں جب استقلال کے ساتھ اعمال کا پانی شامل ہو- بیسیوں انسان کی کوتاہیاں، بیسیوں انسان کی مشکلات، بیسیوں انسان کی کمزوریاں اسے اپنے ان ارادوں کے مطابق عمل کرنے سے روکتی رہتی ہیں جو وہ ایک وقت نہایت خلوص سے اپنے دل میں قائم کرتا ہے- پس ہمیں دعا کرنی چاہئے خدا تعالیٰ ان