انوارالعلوم (جلد 11) — Page 28
۲۸ شریعت اور عقل کہتی ہے کہ یہ کام نہ کرو۔دوسرے بُزدلی اور منافقت کہتی ہے اس سے پیچھے ہٹ جاؤ لیکن جب مومن کو یہ معلوم ہو جاۓ کہ شریعت اور عقل فلاں کام کرنے سے روکتی نہیں بلکہ اس کے کرنے کا حکم دیتی ہے تو ایک ہی بات باقی رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ بُزدلی اسے اس کام کے کرنے سے روک دے۔مگر خدا کے بندے کبھی بزدل نہیں ہوتے۔حضرت مسیح موعود علیہ اصلیت و اسلام فرماتے ہیں۔صادق بُزدل نبود وگر بیند قيامت را جو شخص سچائی پر قائم ہو تو یہ سمجھتا ہو کہ جس رستے پر چل رہا ہے وہ خدا تعالی کی رضا کا راستہ ہے تو پھر اگر قیامت بھی آجائے تو وہ بُزدلی نہیں دکھایا کرتا۔پس ہم اپنی ان قدیم روایات کو قائم رکھتے ہوئے جن کی وجہ سے ہم نے اپنے ہم قوموں اور اپنے بھائیوں سے لڑائی مول لی ، ان کی ناراضگی برداشت کی ، ان کے طعنے سنے، انہیں قائم رکھتے ہوئے سعی کریں گے کہ دنیا میں امن قائم رہے ، فتنہ و فساد نہ پیدا ہو- مگر دنیا کو یہ بھی معلوم ہو جانا چاہئے جہاں ہم خود ابتداء نہ کریں گے وہاں اگر کوئی ہمارے متعلق ابتداء کرے گا تو ہم اس کی کوئی حرکت بھی برداشت نہیں کریں گے اور وہ، وہ کچھ دیکھے گا جو اس کے وہم و خیال میں بھی نہ ہوگا۔ہم کسی کے خلاف ہاتھ میں اٹھاتے لیکن جو ہاتھ ہمارے خلاف اٹھے گا وہ شل کیا جائے گا، وہ قطع کیا جائے گا اور وہ کبھی کامیابی سے نیچے نہیں جھکے گا۔ہم نے کبھی باتیں نہیں بنائیں ، کبھی بڑھ بڑھ کر دعوے نہیں کئے اور اس وجہ سے لوگوں کے اعتراض بھی سنے۔جب انہوں نے بڑے بڑے دعوے کئے کہ ہم یہ کر دیں گے، وہ کر دیں گے اس وقت ہم ان کے دعووں میں شریک نہ ہوئے اس لئے کہ ہم جانتے تھے یہ محض دعوے ہیں جن پر کبھی عمل نہیں کیا جائے گا۔اس پر ہمارے متعلق کہا گیا یہ بزدل ہیں اس لئے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔مگر کر کے انہوں نے کبھی کچھ نہ دکھایا۔صرف باتیں کر کے رہ گئے۔غرض ہم نے کبھی نہیں کہاکہ ہم خون کی ند یاں بہا دیں گے اور ہم تو لوگوں کے زخم مندمل کرنے آئے ہیں نہ کہ خون بہانے کے لئے۔پس ہم اب بھی یہی کہیں گے کہ ہم دنیا میں امن اور صلح قائم کریں گے۔مگر باوجود اس کے میں بتا دینا چاہتا ہوں۔اگر کوئی ہمارے امن پسندی کے جذبات سے غلط فائدہ اٹھا کر قدم اٹھانا چاہے تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ خدا تعالی کی جماعتوں نے کبھی پیٹھ نہیں دکھائی اور پہلوں کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ہم بھی پیٹھ