انوارالعلوم (جلد 11) — Page 554
۵۵۴ فضائل القرآن(نمبر ۳) ہو جائے گی۔دوست گھبرائے نہیں بلکہ اطمینان سے بیٹھے رہیں۔ایک دوست کے چند سوالات کے جوابات پیشتر اس کے کہ میں آج کا مضمون شروع کروں میں ایک دوست کے چند سوالات کے جواب دینا چاہتا ہوں جو میری کل کی تقریر کے متعلق ہیں یا یوں کہنا چاہیے کہ اس تقریر سے پیدا ہوئے ہیں۔سوال تو ایسے ہیں کہ بجائے خود لمبی تقریر چاہتے ہیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ جس مضمون کو میں اس موقع پر بیان کرنے کا ارادہ کر کے آیا ہوں اسے نظر انداز کردوں اور ان سوالات کا اور ان کے علاوہ دوسرے سوالوں کا تفصیلی جواب دینا شروع کر دوں۔اگر میں ایسا کروں تو میری مثال اس ہر دلعزیز کی سی ہوجائے گی جس کے متعلق مشہو ر ہے کہ وہ دریا کے کنارے بیٹھا رہتا تھا اور جو لوگ اسے دریا سے پار اتارنے کے لئے کہتے انہیں پار لے جاتا۔ایک دفعہ وہ ایک شخص کو اٹھا کر لے جا رہا تھا اور ابھی دریا کے نصف ہی میں پہنچا تھا کہ ایک اور شخص نے اسے آواز دی کہ مجھے بہت ضروری کام ہے مجھے جلدی لے جاؤ۔اس نے پہلے شخص کو اسی جگہ دریا میں کھڑا کیا اور دوسرے کو لینے کے لئے واپس آگیا جب اسے لے کر گیا تو ایک تیسرے نے کہا مجھے بہت جلدی جانا ہے مجھے لے چلو۔اس پر دوسرے کو بھی پانی میں کھڑا کر کے واپس آگیا اور تیسرے کو لے چلا۔ان میں سے تیرنا کوئی بھی نہ جانتا تھا اچانک پانی کا ایک ریلہ آیا تو پہلے نے کہا کہ میاں ہر دلعزیز مجھے بچانا۔یہ سن کر اس نے جس شخص کو اٹھایا ہوا تھا اسے پانی میں کھڑا کر کے پہلے کو بچانے کے لئے لپکا اس تک ابھی پہنچا نہ تھا کہ تینوں ڈوب گئے۔پس یہ طریق اختیار کرنا کہ مقررہ لیکچر سے ہٹ کر ہر قسم کے سوالات کا جواب دینا شروع کر دیا جائے اپنے کام کو نقصان پہنچانا ہے۔گو ممکن ہے کہ اس طرح ہر دل عزیزی تو حاصل ہو جائے لیکن فائدہ کسی کو نہیں پہنچے گا۔پس میں اس وقت سوالات کا مفصل جواب نہیں دے سکتا۔البتہ مختصر طور پر چند باتیں بیان کر دیتا ہوں۔مسلمان محکوم ہو سکتا ہے یا نہیں سائل کا ایک سوال یہ ہے کہ مسلم کو کسی کا محکوم نہیں ہونا چاہیے۔اگر احمدی حقیقی مسلمان ہیں تو معلوم ہوا کہ دنیا میں کوئی مسلمان بھی آزاد نہیں۔یہ صورت حالات کیوں ہے؟ اس سوال کے پہلے حصہ کا جواب تو یہ ہے کہ مسلم کے سوا کوئی محکوم ہوتاہی نہیں۔