انوارالعلوم (جلد 11) — Page 545
۵۴۵ بعض اہم اور ضروری امور ایسے دگنے معارف دکھانے سے قاصر رہوں تو مولوی صاحبان جو چاہیں کہیں- لیکن اگر مولوی صاحبان اس مقابلہ سے گریز کریں یا شکست کھائیں تو دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعویٰ منجانب اللہ تھا- یہ ضروری ہوگا کہ ہر فریق اپنی کتاب کی اشاعت کے معاً بعد اپنی کتاب دوسرے فریق کو رجسٹری کے ذریعہ سے بھیج دے- مولوی صاحبان کو میں اجازت دیتا ہوں کہ وہ دگنی چوگنی قیمت کا وی- پی میرے نام کر دیں- اگر مولوی صاحب اس طریق فیصلہ کو ناپسند کریں اور اس سے گریز کریں تو دوسرا طریق یہ ہے کہ میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ادنیٰ خادم ہوں میرے مقابلہ پر مولوی صاحبان آئیں اور قرآن کریم کے تین رکوع کسی جگہ سے قرعہ ڈال کر انتخاب کر لیں اور وہ تین دن تک اس ٹکڑے کی ایسی تفسیر لکھیں جس میں چند ایسے نکات ضرور ہوں جو پہلی کتب میں موجود نہ ہوں اور میں بھی اسی ٹکڑے کی اسی عرصہ میں تفسیر لکھوں گا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کی روشنی میں اس کی تشریح بیان کروں گا اور کم سے کم چند ایسے معارف بیان کروں گا جو اس سے پہلے کسی مفسر یا مصنف نے نہ لکھے ہوں گے اور پھر دنیا خود دیکھ لے گی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کی کیا خدمت کی ہے اور مولوی صاحبان کو قرآن کریم اور اس کے نازل کرنے والے سے کیا تعلق اور کیا رشتہ ہے’‘- یہ وہ چیلنج ہے جو دیو بندی مولویوں کو دیا گیا تھا جس کے جواب میں مولوی ثناء اللہ صاحب نے لکھا تھا کہ میں بھی دیو بند کا پڑھا ہوا ہوں- میں اسے منظور کرتا ہوں لیکن کہتے ہیں سادہ قرآن اور کاغذ قلم دوات لیکر الگ الگ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھنا ہوگا- میں کہتا ہوں ترجمہ یا بے ترجمہ کا تو کوئی سوال ہی نہیں- معلوم ہوتا ہے مولوی صاحب کی عقل میں اتنی کمی آ گئی ہے کہ باوجود اس کے کہ انہوں نے میرے متعدد مضامین اور کتابیں پڑھی ہونگی- مخالفین پر میری تحریروں کا رعب بھی جانتے ہیں- مگر خیال کرتے ہیں کہ جب میرے ہاتھ میں بے ترجمہ قرآن آیا تو بس میں ان کے مقابلہ میں رہ جاؤں گا- گویا جو کچھ میری طرف سے شائع ہوتا ہے وہ مولوی صاحب لکھ کر مجھے بھیج دیا کرتے ہیں اور میں اپنی طرف سے اسے شائع کر دیتا ہوں- مولوی صاحب کو یاد رکھنا چاہئے میری طرف سے یہ چیلنج نہیں کہ میں بڑا عالم ہوں- اگر