انوارالعلوم (جلد 11) — Page 532
۵۳۲ بعض اہم اور ضروری امور ایک بہت بڑا ابتلاء اس سال ہماری جماعت پر ایک بہت بڑا ابتلاء آیا- گذشتہ مارچ میں چند لوگوں نے جو جماعت میں فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے جب دیکھا کہ جماعت ان کا پیدا کردہ فتنہ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تو انہوں نے وہی طریق اختیار کیا جو فتنہ پرداز لوگ اپنی شرارت کو انتہا تک پہنچانے کے لئے اختیار کیا کرتے ہیں- یعنی ایسی تحریریں شائع کرنی شروع کر دیں جن سے اشتعال آئے اور جن کو دیکھ کر صبر سے کام لینا محال ہو جائے- مگر اللہ تعالیٰ نے اس سے ہماری جماعت کو ایک سبق دیا اور بتایا کہ وہ مومن کو ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کرنا چاہتا ہے- خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کو یہ سکھانا چاہا کہ ایسے واقعات بھی پیش آ جاتے ہیں جب انسان اپنے نفس پر قابو نہیں رکھ سکتا لیکن ادھر شریعت یہ مطالبہ کرتی ہے کہ نفس کو قابو میں رکھا جائے- میں سمجھتا ہوں ان انتہا درجہ کی اشتعال انگیزیوں کے مقابلہ میں جو فتنہ پردازوں نے شرارت کو بڑھانے کے لئے کیں سوائے چند کوتاہیوں کے ہماری جماعت کے لوگوں نے اپنے نفس کو قابو میں رکھا اور لاکھوں انسانوں کی جماعت میں سے چند کوتاہیاں اس جماعت کے اعلیٰ اخلاق اور ضبط نفس پر دلالت کرتی ہیں نہ کہ کسی قسم کا اس پر حرف لاتی ہیں- ان حالات میں جس عمدگی سے جماعت نے کام کیا اس کی نظیر کا کسی اور جگہ ملنا محال ہے- ایک طرف جماعت کے لوگوں کی غیرت اور حمیّت کا امتحان تھا اور دوسری طرف اپنے نفس پر قابو رکھنے کا- گویا دو آگیں تھیں جن میں وہ کھڑے تھے اور جہاں یہ دونوں آگیں جمع ہو جائیں وہاں عقلمند سے عقلمند انسانوں کی عقل بھی ماری جاتی ہے- مگر خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہماری جماعت پوری طرح کامیاب ہوئی- اس نے غیرت بھی دکھائی اور اپنے نفس پر قابو بھی رکھا اور اگر کسی سے کچھ کوتاہی ہوئی تو ہم خدا تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ باقی جماعت کے صبر، تحمل اور استقلال کی وجہ سے اور شریعت اور اسلام کی تکریم کے طور پر اپنے نفس پر قابو رکھنے کی وجہ سے کوتاہی کرنے والوں کو معاف کر دے- وفات کی جھوٹی خبر ہماری جماعت کی ایک اور آزمائش جو خدا تعالیٰ نے دشمنوں کے ذریعہ کی اور جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایک رنگ میں آزمائش تھی اور ایک رنگ میں انعام- اب میں اس کا ذکر کرتا ہوں- مستریوں نے جو فتنہ پھیلایا اس کے متعلق قدرتی طور پر کبھی یہ خدشہ پیدا ہوتا تھا کہ شاید جماعت کا ایک حصہ اپنے اندر کمزوری محسوس کرے کیونکہ دشمن جو روز بروز شرارت میں بڑھتا جاتا ہے شاید اس کو