انوارالعلوم (جلد 11) — Page 490
۴۹۰ لیں ان کے متعلق جب کوئی سوال ہو تو اس وقت کی برطانوی ایگزیکٹو اور ریاستی ایگزیکٹو مل کر ایک مسودہ تیار کر لیں- چونکہ دونوں کو اپنی اپنی مجلس میں اکثریت حاصل ہو گی اس لئے دونوں ان مسودات کے پاس کرانے میں کامیاب ہو سکیں گی- اگر مسودات کے پیش کرنے کے بعد ممبران مجلس میں زیادہ مخالفت نظر آئے تو دونوں پھر مل کر مشورہ کر لیں اور ایسے تغیرات کر لیں جو دونوں کے لئے تسلی کا موجب ہوں- اس طرح اکثر امور میں مشورہ کے ساتھ کام ہو سکے گا اور جب تک فیڈریشن مکمل نہ ہو یہی ہو سکتا ہے کہ جس قدر اتحاد ہو سکے اسے قبول کر لیا جائے- لیکن ایک اور امر بھی غور طلب ہے اور وہ یہ کہ اوپر کی سکیم اسی وقت چل سکتی ہے جب کہ دونوں فیڈریشنوں کی ایگزیکٹو مجلسیں کونسلوں کے آگے جواب دہ ہوں- جب تک یہ بات نہ ہو ایگزیکٹو کو اکثریت حاصل نہیں ہوتی اور وہ اپنا وعدہ پورا کرنے کے قابل نہیں ہو سکتی- پس اس وقت تک کے لئے کیا انتظام ہو گا؟ میرے نزدیک اس وقت تک کے لئے یہ علاج ہو سکتا ہے کہ ایک سب کمیٹی اس قسم کی جیسی کہ یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ کی مجلس مندوبین میں ہوتی ہے بنا دی جائے- اس میں مجلس کی سب پارٹیوں کے ممبر شامل ہوں- اسی قسم کی ایک کمیٹی چیمبر آف پرنسز کی طرف سے ہو- ان دونوں کمیٹیوں کا یہ کام ہو کہ جو مسودہ بھی اگزیکٹو کی طرف سے ان امور کے متعلق پیش ہونا ہو- جن میں اشتراک کا فیصلہ کیا گیا ہو وہ پہلے ان کے مشترک اجلاس میں پیش ہو اور اس صیغہ کا سیکرٹری اور اسی طرح مجالس مرکزی کے پینل سے چنا ہوا اسسٹنٹ سیکرٹری ان لوگوں سے مشورہ کرے اور جس قدر اثر یہ کمیٹی ڈال سکے ڈال کر مسودہ ایسی شکل میں تجویز کیا جائے جو سب کے لئے قابل منظوری ہو- اس صورت میں چونکہ ایگزیکٹو کو مجلس میں اکثریت نہ ہو گی اس لئے اس قدر فائدہ تو نہ ہو گا جو اول الذکر صورت میں ہے لیکن بہر حال ایک حد تک تعاون کی صورت پیدا ہو جائے گی- میں اس مضمون کے ختم کرنے سے پہلے ایک دفعہ پھر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ریاستوں کو ایک دفعہ سنجیدگی سے اور پھر زمانہ کی رفتار پر غور کر کے اس کی کوشش کرنی چاہئے کہ وہ ہندوستانی فیڈریشن میں شامل ہو نے کے قابل ہو سکیں- اس میں ان کی بھی عزت اور ان کی رعایا اور ان کے ملک کی بھی بہتری ہے- انہیں غور کرنا چاہئے کہ ان سے بہت زیادہ