انوارالعلوم (جلد 11) — Page 17
۱۷ بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلى على رسوله الكريم ہدایت کے متلاشی کو کیا کرنا چاہتے (فرمودہ ۳۰۔ستمبر ۱۹۳۹ ، بمقام جموں کشمیر) ۳۰۔ستمبر کشمیر سے واپس آتے ہوئے حضرتخلیفۃ المسیح الثانی کو بو جہ لاریوں کے وقت پر نہ پہنچنے کے جموں ٹھہرناپڑا اس موقع پر احباب جموں نے حضور کی تقریب کا انتظام کیا۔تشہّد و تعوذ اور تلاوت سورة فاتحہ کے بعد فرمایا۔اللہ تعالی کی مرضی اور اس کے منشاء کے ماتحت باوجود اس کوشش کے کہ میں یہاں سے کل بھی روانہ ہو جانا چاہتا تھا مجھے ایک دن کے لئے اسی مقام پر ٹھہرنا پڑا۔میرے دل میں خواہش تھی کہ میں اس مقام کو دیکھوں اس لئے کہ ہماری جماعت کے پہلے خلیفہ اور امام حضرت مولوی نورالدین ایک عرصہ تک اس میں رہے ہیں اور جیسا کہ عام قاعدہ ہے انسان اپنے پیاروں کے مقامات کو دیکھتا ہے۔مجھے مدت سے اس کا خیال تھا مگر ہر کام کے لئے وقت مقرر ہوتا ہے۔جب میری خواہش تھی میں نہ آسکا مگر اب بغیر اپنی خواہش کے مجبورا ًمجھے ٹھہرنا پڑا۔ہمارے یہاں کے دوستوں نے خواہش ظاہر کی ہے کہ میں ان اصحاب کی خاطر جو ابھی سلسلہ میں داخل نہیں ہوئے کچھ بیان کروں۔خدا کی حکمت ہے میں سمجھتا تھا میرا وقت ضائع گیا۔مگر اب خدا نے یہ تقریب پیدا کر دی ہے۔ممکن ہے میرے اس بیان میں بعض ان لوگوں کو جنہیں تحقیق ِحق مطلوب ہو کوئی مفید بات معلوم ہو اور وہ فائدہ اٹھا ئیں۔مذہب کی غرض میرے نزدیک مذہب کی غرض فتنہ و فساد پیدا کرنا نہیں بلکہ مذہب والوں کی صفائی کے لئے ہوتا ہے۔اگر فتنہ غرض ہوتی تو اسے شیطان باحسن طریق سرانجام دے سکتا تھا۔مگر یہ سب کی ہرگز یہ غرض نہیں۔ٍ حضرت محمد رسول اللہ پر جنہوں نے اپنی جوانی کی زندگی اپنی قوم کی بھلائی میں خرچ