انوارالعلوم (جلد 11) — Page 426
۴۲۶ آپس میں ڈاک کے اخراجات اور آمد کو تقسیم کر سکتے ہیں تو کیا ایک ملک کے دو صوبے ہائیکورٹوں کے اخراجات کی تقسیم نہیں کر سکتے؟ لیکن میں اس امر کو بھی تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں کہ کوئی صوبہ ہائی کورٹ کے اخراجات برداشت نہ کر سکتا ہو- یورپ اور امریکہ کی چھوٹی چھوٹی ریاستیں اگر یہ سب خرچ برداشت کر سکتی ہیں تو کیوں ہندوستان کے صوبے یہ اخراجات برداشت نہیں کر سکتے- یاد رکھنا چاہئے کہ صوبہ جاتی ہائیکورٹ درحقیقت صوبہ کی حکومت کا ایک حصہ ہوتے ہیں اور کسی صحیح فیڈرل حکومت کے ماتحت نہیں ہوتے اور جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ صوبہ جات کے ہائی کورٹوں کے سپرد عدالت کا انتظامی کام بھی ہوتا ہے اور سب ماتحت عدالتیں انتظامی طور پر ان سے تعلق رکھتی ہیں تو یہ انتظام اور بھی ناقص معلوم ہوتا ہے جب کہ صوبہ کی تمام عدالتیں صوبہ سے تنخواہیں پائیں گی، صوبہ ہی انہیں مقرر کرے گا، اسی کے ماتحت وہ سمجھی جائیں گی تو پھر ہائیکورٹ صوبہ کی طرف سے ان کی نگرانی کرے گا پھر وہ کس طرح کسی دوسری حکومت کا حصہ ہو سکتا ہے- اس کے جواب میں شاید کہا جائے کہ آسام کی مثال موجود ہے کہ وہاں ہائیکورٹ کسی اور کے ماتحت ہے اور ماتحت عدالتیں کسی اور کے ماتحت- لیکن میرا جواب یہ ہے کہ ایک چیز مجبوری سے کی جاتی ہے اور ایک خوشی سے- ان دونوں حالتوں میں بہت فرق ہوتا ہے- اگر آسام کے لئے ہمیں مجبوراً ایسا کرنا پڑا ہے تو اس کے یہ معنی نہیں کہ ہم سب جگہ جہاں ضرورت نہیں یہی انتظام کر دیں- فیڈریشن کی تکمیل میں ہائی کورٹوں کا صوبہ کے متعلق ہونا شرط ہے- پس ہائی کورٹ کسی صورت میں صوبوں کے اختیار سے باہر نہیں جانے چاہئیں بلکہ آئندہ یہ تغیر ہونا چاہئے کہ ہائی کورٹ کے ججوں کا تقرر بھی صوبہ کی طرف سے ہو- ہاں ایک بات کی میں تصدیق کروں گا کہ چونکہ عدالتوں کا وقتی اور سیاسی اثرات سے بالا ہونا ضروری ہے اس لئے ججوں کے متعلق یہ قائدہ باقی رہے کہ جب کوئی شخص ایک دفعہ ہائیکورٹ کا جج مقرر ہو جائے تو اسے اس وقت تک کہ وہ قواعد کے مطابق ریٹائر نہ ہو یا قبلازوقت اپنی مرضی سے استعفاء نہ دے، الگ نہ کیا جائے سوائے اس کے کہ اس کے خلاف رشوت وغیرہ کے الزامات یقینی طور پر ثابت ہو جائیں- اس صورت میں لیجسلیٹو کونسل (LEGISLATIVE COUNCIL) کی ساٹھ فیصدی کثرت کے ریزولیوشن کے بعد گورنر جج کو