انوارالعلوم (جلد 11) — Page 360
۳۶۰ اسی طرح وہ صوبے جنہیں مستقل شکل میں رکھنا ہے ان کے متعلق بھی ابھی فیصلہ ہونا چاہئے کہ انہیں بھی آزاد حکومت ملے گی کیونکہ بغیر اس کے فیڈریشن مضبوط نہیں ہو سکتی- ہاں آزاد حکومت سے مراد یہ نہیں کہ تمام صوبوں کو ایک ہی شکل کی حکومت ملے- میں اسے بالکل غیر معقول بات سمجھتا ہوں کہ ہمارے وزراء کی تنخواہیں بھی انگلستان مقرر کرے- اگر تنخواہوں تک کا سوال انگلستان نے حل کرنا ہے تو پھر آزادی کا کیا مطلب ہوا- اصل طریق فیصلہ کا تو یہ ہے کہ وہ آزادی کی مقدار جو اس وقت ہندوستان اور ہندوستانیوں کو ملتی ہے اس کا فیصلہ اب ہو جائے- اور پھر ہر صوبہ کی کونسل اپنا نظام حکومت خود تجویز کرے- یہی اتحادی حکومت کی غرض ہوتی ہے اور اگر یہ غرض پوری نہ ہو تو اتحادیت کی بنیاد یقیناً کمزور ہو گی- یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ کی ریاستوں کے نظام آپس میں مختلف ہیں لیکن ان کی فیڈریشن میں کوئی نقص نہیں اسی طرح ہندوستان میں ہونا چاہئے- اگر پنجاب اپنے وزراء کو تین ہزار تنخواہ دینا چاہتا ہے اور بنگال چھ ہزار تو اس پر انگلستان کے باشندوں کو کیا اور کیوں اعتراض ہو سکتا ہے- اسی طرح اگر انتخاب کے طریقوں میں وہ فرق کرنا چاہتے ہیں بغیر اس کے کہ کسی قوم یا کسی جماعت کے حق کو نقصان پہنچے تو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے- اسی طرح اگر وزارت کے متعلق مختلف صوبے آپس میں اختلاف کریں- کوئی صوبہ وزارت کا انتخاب کونسلوں کے سپرد کرے- لیکن کونسلوں کی عمر تک انہیں مستقل عہدہ دے دے- دوسرا ان کا عہدہ پر قائم رہنا کونسلوں کی مرضی کے تابع رکھے تو اس سے نہ تو حکومت ہی کمزور ہوتی ہے نہ فیڈریشن میں کوئی نقص آتا ہے- غرض بیسیوں طریق حکومت کے جو مختلف ملکوں کے تجربہ میں آ چکے ہیں، انہیں مدنظر رکھتے ہوئے صوبہ جات اگر اپنی ضرورتوں کے مطابق کوئی نظام قائم کریں تو اس پر انگلستان کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے- جس بات کی حد بندی کی ضرورت ہے وہ صرف یہ ہے کہ بادشاہ معظم نے جو حقوق محفوظ رکھے ہوں یا جو حقوق مرکزی گورنمنٹ کو دیئے گئے ہوں یا جو حقوق اقلیتوں کے لئے محفوظ رکھے گئے ہوں انہیں تلف نہ کیا جائے- ان تینوں شرطوں کو پورا کرنے کے بعد ہر صوبہ کو اجازت ہو کہ اپنی ضرورت کے مطابق انتظام کرے اور اگر یہ اصول تسلیم کر لیا جائے تو چھوٹے صوبوں کو اپنے صوبوں کا انتظام کرنے میں کوئی دقت نہ ہوگی- سوئٹنررلینڈ اگر اپنے وزراء کو نہایت قلیل معاوضہ دیتا ہے اور اس کے نظام میں کوئی نقص نہیں آ جاتا تو اگر بلوچستان اور صوبہ سرحد بھی ایسا ہی کریں تو اس میں کیا نقص ہے- آخر صوبہ سرحدی کا ہمسایہ