انوارالعلوم (جلد 11) — Page 288
۲۸۸ پاس آئے اور کہا کہ اگر کسی مسلمان کو تم نے مکان کرایہ پر دیا تو آئندہ تم کو بھی کرایہ پر مکان اس علاقہ میں نہیں ملے گا- بے شک اس کی نظیریں مل جائیں گی کہ ہندوؤں نے مسلمانوں کو مکان کرایہ پر دیا ہوگا لیکن وہ مکان بنائے ہی اس غرض سے گئے ہونگے کہ کرایہ پر چڑھائے جائیں ورنہ ہندوؤں نے بڑے شہروں میں اپنے لئے الگ علاقے تجویز کر چھوڑے ہیں- ان میں کسی مسلمان کو نہیں آنے دیتے بالکل اسی طرح جس طرح ساؤتھ افریقہ (SOUTH AFRICA)میں ہندوستانیوں سے اور اقوام کے لوگ سلوک کر رہے ہیں لیکن ان کے طریق عمل پر جہاں ہندو شور مچاتا ہے وہاں خود اسی کی نقل ہندوستان میں کر رہا ہے کیونکہ وہ سمجھ چکا ہے کہ اس طرح سگریگیشن (SEGREGATION) کرنے سے قوموں کو کمزور کیا جا سکتا ہے- یہ سگریگیشن صرف مکانوں کے متعلق ہی نہیں بلکہ جائدادوں کے متعلق بھی ہے اور ایک منظم صورت میں یہ کوشش کی جاتی ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے جائیدادیں چھڑوا کر ہندوؤں کے قبضہ میں لائی جائیں- اگر ہندوستان کے بنیوں کے ان منصوبوں کو دیکھا جائے جو وہ مسلمانوں کی جائیدادوں کو اپنے قبضہ میں کرنے کے لئے کرتے ہیں تو صاف معلوم ہو جائے گا کہ ان کی اصل غرض مالی فائدہ کے لئے جائیداد پر قبضہ کرنا نہیں ہوتی بلکہ مسلمانوں کو کمزور کرنا ہوتی ہے- بسا اوقات جائیداد اس روپیہ کے مقابلہ میں حقیر ہوتی ہے جو انہوں نے قرض کے طور پر دیا ہوا ہوتا ہے لیکن ان کی اصل آمد ان جائیدادوں کے حصول کے بعد شروع ہوتی ہے- وہ اس علاقہ کے حاکم ہو جاتے ہیں اور اپنے مقروضوں پر ایک جابر بادشاہ کی طرف حکومت کرتے ہیں- یہ تو بھلا کسے توفیق ملے گی کہ وہ اصولی طور پر اس قرضہ کے سلسلہ کی تحقیق کرے مگر میں اس کے متعلق مسٹر تلک جو مشہور مرہٹہ لیڈر گذرے ہیں ان کی وصیت کا ذکر کرتا ہوں جس سے اس ارادہ کا پتہ لگ جائے گا- خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی نے حکیم وارثی صاحب کا ایک بیان شائع کیا ہے- مسٹر وارثی صاحب تحریک آزادی میں جوش سے حصہ لینے والے تھے اور بطور والنٹیئر تلک صاحب کے مکان پر پہرہ دیتے رہے تھے- وہ کہتے ہیں کہ مسٹر تلک نے مرتے وقت اپنے ایک دوست سے کہا کہ مسٹر گاندھی کو میرا یہ پیغام پہنچا دینا کہ-: ‘’میری طرح ہمیشہ اس بات کا خیال رکھیں کہ جس طرح بھی ہو سکے ہندوستان کی سب جائیدادیں ہندوؤں کے قبضہ میں آ جائیں- پھر صرف حکومت کا مسئلہ باقی رہ