انوارالعلوم (جلد 11) — Page 246
۲۴۶ ہندوستانی کو جاہ پسند اور مفسد تصور کرتا ہے- پس میں سمجھتا ہوں کہ گو ایک مذہبی آدمی ہونے کے لحاظ سے مجھے سیاست ملکی سے اس قدر تعلق نہیں ہے جیسا کہ ان لوگوں کو جو رات دن انہی کاموں میں پڑے رہتے ہیں لیکن اسیقدر میری ذمہ داری صلح اور آشتی پیدا کرنے کے متعلق زیادہ ہے- اور نیز میں خیال کرتا ہوں کہ شورش کی دنیا سے علیحدہ ہونے کی وجہ سے میں شاید کئی امور کی تہہ کو زیادہ آسانی سے پہنچ سکتا ہوں بہ نسبت ان لوگوں کے کہ جو اس جنگ میں ایک یا دوسری طرف سے شامل ہیں- پس اس وقت جب کہ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کے اعلان کی وجہ سے لوگوں کی توجہات مسئلہ ہندوستان کے حل کرنے میں لگی ہوئی ہیں میں بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ اپنے خیالات دونوں ملکوں کے غیر متعصب لوگوں کے سامنے رکھ دوں- میں خوب سمجھتا ہوں کہ یہ کام مشکل ہے- ہندوستان جیسا وسیع ملک جس میں تینتیس کروڑ نفوس بستے ہیں اور جس میں بیسیوں زبانیں بولی جاتی ہیں اس کے مستقبل کے متعلق کچھ لکھنا آسان کام نہیں ہے- پس میں اللہ تعالیٰ سے جو سب مخلوقات کا مالک اور خالق ہے دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے فضل اور رحم سے کام لے کر اس نازک معاملہ کے متعلق ہماری راہنمائی فرمائے اور ہمیں اس راستہ کو اختیار کرنے کی توفیق دے جو ہمارے حال اور مستقبل دونوں کے لئے اچھا ہو اور جس پر چل کر ہم نہ صرف اس قابل ہوں کہ اپنی دنیا کو اچھا کر سکیں- بلکہ اس کی رضا کے حصول کی بھی ہم میں قابلیت پیدا ہو- ہم کمزور ہیں لیکن وہ طاقت والا ہے، ہم مستقبل کی ضرورتوں سے ناواقف ہیں لیکن وہ واقف ہے پس اسی کی مدد سے ہم حقیقی خوشی اور حقیقی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں- اور اس کے آگے ہم جھکتے ہیں کہ وہ ہماری مدد اور نصرت کرے اور ہماری بہتری کے سامان پیدا کرے- اس کے بعد میں انگریز افسران حکومت کو خواہ ہندوستان کے ہوں خواہ انگلستان کے خصوصاً اور باقی انگریزوں کو عموماً کہتا ہوں کہ آپ لوگوں پر ایک بہت بڑی ذمہ واری ہے- خدا تعالیٰ نے آپ کے سپرد ایک امانت کی ہے اس امانت کو صحیح طور پر ادا کرنا آپ کا فرض ہے- مادیت کی ترقی نے خدا تعالیٰ پر ایمان بہت کمزور کر دیا ہے اور جو لوگ اس پر یقین بھی رکھتے ہیں وہ بھی اسے ایک بے تعلق شاہد کی طرح سمجھتے ہیں جو دنیا کے معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا لیکن یہ بات درست نہیں اگر ایسا ہوتا تو وہ نبیوں کا اتنا لمبا سلسلہ نہ جاری کرتا- اس