انوارالعلوم (جلد 11) — Page 178
۱۷۸ ہے کہ بالکل ممکن ہے کہ کسی جگہ کے مسلمان بھی اس سے فائدہ نہ اٹھا سکیں اور صرف پنجاب کے سکھ اور ہندو ہی اس سے نفع حاصل کر سکیں- اجارہ زمین کے متعلق قانون اسی عنوان کے حصہ سترہ میں ایک زیادتی کی گئی ہے اور میرے نزدیک وہ زیادتی بجائے مفید ہونے کے مسلمانوں کے لئے مضر ہو سکتی ہے، وہ زیادتی یہ ہے: ’’پارلیمنٹ ایسے بھی قوانین بنائے گی کہ جن کے ذریعہ سے کسان کو اجارہ دائمی حاصل ہو جائے گا اور مناسب شرح لگان مقرر ہو جائے گی‘‘- اول تو جہاں تک میں خیال کرتا ہوں ایسے قانون کا بنانا سنٹرل گورنمنٹ کے دائرہ عمل سے باہر ہے کیونکہ جن امور کے متعلق مرکزی حکومت کو قوانین بنانے کا اختیار دیا گیا ہے اور جو نہرو رپورٹ کے شیڈول نمبر۱ 1(۔No (Schedule کے عنوان کے نیچے درج ہیں ان کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت کو زمیندار اور کسان کے باہمی حقوق کے متعلق کوئی قانون بنانے کا اختیار حاصل نہیں ہے یہ اختیارات مقامی حکومتوں کے سپرد ہیں- قطع نظر اس کے یہ سوال اپنی ذات میں بھی ایسا ہے کہ سارے ہندوستان کے لئے اس کا حل بالکل ناممکن ہے اور جو حکومت اس کے لئے عام قانون بنائے گی وہ ضرور ملک کو سخت نقصان پہنچائے گی- پس میرے نزدیک اس سوال کے حل کو صوبہ جات پر ہی چھوڑنا چاہئے ورنہ چونکہ مسلمان اپنی نسبت آبادی کے لحاظ سے زمیندارہ کے ساتھ زیادہ تعلق رکھتے ہیں، وہ اس قانون سے بہت نقصان اٹھا سکتے ہیں- حکومت کی زبان دوسرا تغیر جس کے متعلق میں کچھ لکھنا مناسب سمجھتا ہوں وہ زبان کے عنوان کے نیچے مادہ چار الف کے حصہ اول میں یوں بیان کیا گیا ہے-: ‘’حکومت کی زبان ہندوستانی ہوگی خواہ وہ ناگری میں یا اردو میں لکھی جائے’‘- یہ ‘’خواہ’‘ کا لفظ ایسا مشکوک ہے کہ بالکل ممکن ہے سرکاری رپورٹیں ساری کی ساری ناگری میں ہی شائع ہوتی رہیں اور اس طرح اردو کی ترقی کو نقصان پہنچا دیا جائے- اور یہ لازمی بات ہے کہ اگر سرکاری طور پر ناگری حروف کو رائج کیا گیا تو آہستہ آہستہ عربی اور فارسی کے حروف زبان سے نکل کر موجودہ اردو کی بجائے ہندی بھاشہ ہی کانام اردو ہو جائے گا- خصوصاً