انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 147

۱۴۷ ہی منحصر ہے۔تم خود اپنے طور پر اس میں بھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔یہ سوال اس زمانہ میں بڑے زور سے پیدا ہورہا ہے کہ انسان یا تو خود روحانیت میں کمال پیدا کرکے روحانی تعلیم بنا سکتا ہے یا پھر دوسری روحوں سے تعلق پیدا کر کے ان کی امداد سے ایسی تعلیم ایجاد کرسکتا ہے۔اس وہم میں اس زمانہ کے بڑے بڑے لوگ مبتلا نظر آتے ہیں کہ روحیں انسان کو روحانیت کا اعلیٰ رستہ بتا دیتی ہیں۔ان کا خیال ہے کہ انسانی روح میں جو کمی رہ جاتی ہے وہ مُردوں کی روحیں پوری کردیتی ہیں۔اﷲ تعالیٰ ایسے لوگوں کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ تمہارا خیال ہے کہ تم خود روحانی طاقتوں کو ترقی دے کر اعلیٰ درجہ کی روحانی تعلیم بنا سکتے ہو۔اسی طرح تمہارا خیال ہے کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے آپ ہی آپ یہ کتاب بنالی ہے اس پر خدا کی طرف سے الہام نازل نہیں ہوا۔اس کی اپنی روحانی طاقت اس قدر ترقی کر گئی تھی کہ اس سے خودبخود ایسی باتیں صادر ہونے لگ گئیں۔مگر یہ درست نہیں کیونکہ انسانی طاقتیں اتنی نہیں ہیں کہ ایسا کلام بنا سکیں۔انسانی عقل کا اپنے آپ روحانی رستہ تجویز کرنا تو الگ رہا وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْھَبَنَّ بِالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَکَ بِہٖ عَلَیْنَا وَکِیْلًااگر یہ قرآن جو نازل شدہ ہے اسی کو ہم تمہاری نظر سے اوجھل کردیں تب بھی تم اپنی روحانی قوتوں کو نشوونما دے کر ایسی کتاب نہیں بناسکتے۔یعنی اگر ہم یہ بنی بنائی تعلیم ہی دنیا سے غائب کردیں تو پھر بھی انسان اس جیسی تعلیم نہیں بناسکتے۔کہاجاسکتا تھا کہ یہ قرآن کا محض ایک دعویٰ ہے کہ اگر قرآن کریم کی تعلیم غائب ہوجائے تو انسان اس جیسی تعلیم نہیں لا سکتے۔اس کا ثبوت کیا ہے؟ یہ ثبوت بھی اﷲ تعالیٰ نے پیش کردیا ہے۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جب کہ قرآن دنیا سے اٹھ جائے گا۔اس کی تحریر تو رہ جائے گی مگر تعلیم پر عمل کرنے والے نہ ہوں گے۔چنانچہ جب ایسا زمانہ آیا تو نہایت ہی لغو باتیں اسلام اور قرآن کی طرف منسوب ہونے لگ گئیں اور اس کی بے نظیر اخلاقی اور روحانی تعلیم پر پردہ پڑگیا۔اس کے بعد فرماتا ہے اِلَّا رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ سوائے اس کے کہ تیرے رب کی خاص رحمت اسے دنیا میں پھر واپس لے آئے اور کوئی صورت اس کی واپسی کی نہیں ہوگی۔چنانچہ آخری زمانہ میں رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلمکی پیشگوئیوں کے مطابق اﷲ تعالیٰ نے پھر اپنی رحمت کا ہاتھ لوگوں کی طرف لمبا کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے ذریعہ دوبارہ