انوارالعلوم (جلد 11) — Page 146
۱۴۶ عَلَیْکَ کَبِیْرًا۔قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓی اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِہٖ وَلَوْکَانَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ ظَھِیْرًا۔وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ فَاَبٰٓی اَکْثَرُ النَّاسِ اِلَّا کُفُوْرًا۔۴۸ ان آیات سے پہلے قرآن کریم کا ذکر کیا گیا ہے۔اس کے بعد فرماتا ہے وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ کچھ لوگ تجھ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ کیوں نہ یہ تسلیم کیا جائے کہ روح اپنے اندر یہ ذاتی قابلیت رکھتی ہے کہ اس سے اعلیٰ درجہ کا کلام نکلنے لگ جاتا ہے۔یہاں سوال نقل نہیں کیا گیا۔اس لئے اس موقع کے لحاظ سے جتنے سوال کے پہلو نکل سکتے ہوں وہ سب جائز ہوں گے۔ایک سوال یہ ہوسکتا ہے کہ روح کو کس طرح پیدا کیا گیا ہے دوسرا سوال یہ ہوسکتا ہے کہ روح میں کیا کیا طاقتیں رکھی گئی ہیں۔تیسراسوال یہ ہوسکتا ہے کہ روح کا انجام کیا ہوگا؟ خدا تعالیٰ فرماتا ہے قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا۔روح مادیات سے بالا ہے اس لئے یہ تمہارے تصرف میں نہیں آسکتی۔اس کی پیدائش اس کا قیام اور اس کا انجام سب اﷲ تعالیٰ کے تصرف میں ہے کیونکہ وہ خود روح کو پیدا کرنے والا ہے۔اس میں ان لوگوں کا رد کیا گیا ہے جو کہتے ہیں کہ روح آپ ہی کمال حاصل کرسکتی ہے۔فرمایا جب تک خدا کا کلام روح کو حاصل نہ ہو وہ کوئی کمال ظاہر نہیں کرسکتی۔پھر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ روح فنا کیوں نہیں ہوتی؟ ان کے متعلق فرمایا کہ زندہ رکھنے والا جو موجود ہے تو فنا کیوں ہو۔جیسے آگ جلانے والا جب تک آگ میں لکڑیاں ڈالتا جائے گا وہ نہیں بجھے گی۔غرض نہ یہ سوال درست ہے کہ روح ہمیشہ کس طرح رہے گی اور نہ یہ کہ اگر زندہ رہے گی تو حادث نہیں ہے کیونکہ اس کی زندگی خدائی اذن سے ہے نہ کہ اپنی ذاتی قابلیت کی وجہ سے۔بہرحال روح کی پیدائش بھی امر یعنی کُنْ کہنے سے ہے اور اس کی ترقی بھی امر یعنی کلامِ الٰہی سے ہے اور اس کا ابدی قیام بھی امر یعنی قضائے الٰہی سے وابستہ ہے۔پھر فرمایا کہ انسانی روح کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ آپ ہی کمال حاصل کر سکتی ہے اور آپ ہی تعلیم بیان کرسکتی ہے مگر یہ غلط ہے وَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًاروح کے متعلق جو انسانی معلومات ہیں وہ نہایت ناقص اور ناتمام ہیں جس طرح اور غیر مادی اشیاء مثلاً ذات باری یا ملائکہ کے متعلق اس کے معلومات ناقص ہیں۔اس کے لئے خدا تعالیٰ کا الہام ضروری ہے جس کے امر سے یہ سب کچھ ہے۔اسی طرح اس کی مخفی طاقتوں کا ابھارنا بھی امر پر