انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 85

۸۵ مشنری سوسائٹی نے اپنے خاص اجلاس میں فیصلہ لکھا ہے کہ احمدی جماعت جہاں جہاں عیسائیت کا مقابلہ کر رہی ہے اسے شکست دے رہی ہے- کتنا بڑا اقرار ہے- مگر ہماری ہستی کیا ہے- میرا یقین ہے کہ اگر صرف پچیس لاکھ بھی احمدی ہوں تو ساری دنیا پر اسلام کو غالب کر سکتے ہیں- ہم موجودہ حالت میں بھی غالب ہونگے لیکن اس قدر تعداد ہونے پر دشمن سے دشمن بھی اقرار کرنے پر مجبور ہوگا کہ اس نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں مگر ان ۷ کروڑ مسلمانوں میں کچھ بھی دم نہیں- پس ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے کہ احمدیت کی اشاعت ہو- اب پھر ایک دفعہ میں اپیل کرتا ہوں- اس وقت یہاں نام نہیں لکھے جائیں گے کیونکہ اس طرح تقریر رہ جائے گی دفتر میں نام بھیج دیئے جائیں- میں اپیل کرتا ہوں اور میرا اپیل کرنا کیا خدا تعالیٰ نے یہ حق رکھا ہے- میں تو ثواب میں شامل ہونے کے لئے کہتا ہوں کہ سارے احباب قطع نظر اس سے کہ ان کی بڑی پوزیشن ہے یا چھوٹی، اگلے سال کم از کم اپنے رتبہ کے ایک ایک آدمی کو احمدی بنائیں- خدا تعالیٰ کے نزدیک تو ہر ایک کا درجہ بڑا ہے- یہ میں اس وجہ سے کہہ رہا ہوں کہ اس طرح تمام طبقوں میں احمدیت پھیل جائے ورنہ جو بھی احمدیت میں آتا ہے خدا کے نزدیک اس کا بڑا درجہ ہے- پھر چھوٹے بڑے اور بڑے چھوٹے ہو سکتے ہیں- ہو سکتا ہے جو بظاہر چھوٹا نظر آئے، اپنے علاقہ میں تغیر پیدا کرنے کے لحاظ سے بڑا ثابت ہو- پس دوست اپنے نام لکھا دیں ان کے نام اخبار میں درج کر دیئے جائیں گے تا کہ آئندہ آنے والی نسلیں یاد رکھیں- نام درج ہو جانے بھی بڑی بات ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے منارۃ المسیح کے متعلق اعلان کیا تھا کہ جو سو روپیہ دے گا اس کا نام منارہ پر لکھا جائے گا- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نام لکھا جانا بھی بڑی بات ہے تا کہ اگلی نسلیں ان کے نام یاد رکھیں اور جو لوگ روحانی مینار بنانے میں حصہ لیں گے ان کے نام کیوں نہ یاد رکھیں گے- پس اپنے اپنے نام دو تا کہ آئندہ نسلیں یاد رکھیں کہ انہوں نے روحانی مینار بنانے میں حصہ لیا تھا- میں نے دیکھا ہے نئی جماعتیں بہت کم قائم ہو رہی ہیں اس لئے ارادہ ہے کہ نئے علاقوں میں مبلغ بھیجے جائیں جو وہاں رہیں اور تبلیغ کریں- دوست ان کی مدد کریں سیالکوٹ، گجرات، جالندھر، ہوشیار پور وغیرہ علاقوں کے دوست ایسے مقامات کے پتے دیں جہاں دس دس، پندرہ پندرہ میل میں کوئی احمدی نہیں مگر وہاں ان کی رشتہ داریاں ہوں تا کہ وہ اخلاقی مدد مبلغوں کو دے سکیں- اگر ایسے علاقوں کے پتے آ جائیں تو مبلغوں کو وہاں بھیجا جائے- میں نے