انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 46

۴۶ ایسا اختلاف کرنے والے کو علیحدہ کرنا ضروری ہو جاتا ہے- جیسے اس عضو کا کاٹنا ضروری ہوتا ہے جس میں ایسے جراثیم پیدا ہو جائیں جو سارے جسم کو تباہ کر دینے والے ہوں- ان نصائح کے بعد میں سمجھتا ہوں لجنہ آہستہ آہستہ اپنے کام کو سمجھنے لگ جائے گی اور اس مقام پر پہنچ جائے گی کہ ہم فخر کر سکیں گے- کہ جس طرح ہماری جماعت کے مرد منظم ہیں اور قانون کے ماتحت کام کرنا جانتے ہیں اسی طرح ہماری جماعت کی عورتیں بھی منظم ہیں- اس کے بعد چونکہ اس ایڈریس میں اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو یہاں پیش آیا اور جو مذبح کا واقعہ ہے- اس کی طرف میں اپنی تقریر کا رخ پھیرتے ہوئے لجنہ کو مخاطب کرتا ہوں- لجنہ اماء اللہ میں گو ایسی عورتیں نہیں ہیں جن کی اولاد ہو، یا جوان اولاد ہو- الاماشاء اللہ- لیکن بوجہ اس کے کہ یہی عورتوں کی قائمقام ہیں- اس لئے میں انہیں اس فرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو اس زمانہ میں عورتوں پر عائد ہوتا ہے- ہماری جماعت ہر موقعہ پر باامن جماعت رہی ہے- اب بھی باامن ہے اور باامن رہے گی- مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ ہم کسی جبر سے اپنے حقوق چھوڑ دیں اور ان کی حفاظت نہ کریں- دنیا میں سب سے بڑھ کر باامن رسول کریم ﷺ تھے- مگر آپ کی آخری عمر لڑائیوں میں ہی گذری- دراصل امن اور جنگ متضاد نہیں- بعض دفعہ امن اور جنگ ایک ہی ہوتا ہے بعض دفعہ جنگ امن کے خلاف ہوتی ہے اور بعض دفعہ جنگ ایک جد تک ان کے خلاف ہوتی ہے- اور ایک حد تک اس کے موافق- بعض دفعہ امن کے قیام کے لئے جنگ کرنی پڑتی ہے- اور بعض دفعہ امن کی بربادی کے لئے جنگ کی جاتی ہے اور بعض دفعہ بین بین حالت ہوتی ہے- یعنی نیت تو امن قائم کرنے کی ہوتی ہے- لیکن فعل امن کو برباد کرنے والا ہوتا ہے- یا نیت تو امن کو برباد کرنے والی ہوتی ہے لیکن فعل امن قائم کر دیتا ہے- پس جب کہ قیام امن کے لئے جنگ بھی ضروری ہوتی ہے- تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری اولادیں بہادر اور مضبوط دل کی ہوں- ہمارے ملک میں بہت بڑی مصیبت یہ ہے کہ جب مردوں کے لئے کوئی خاص کام کرنے کا وقت آتا ہے تو عورتوں میں شور پڑ جاتا ہے- کہ ہمار یبچے، ہمارے بھائی، ہمارے خاوند، ہمارے دوسرے رشتہ دار تکلیف میں مبتلا ہو جائیں گے- رسول کریم ﷺ کو جہاں مرد جری اور بہادر ملے تھے- وہاں عورتیں بھی نہایت قوی دل اور مضبوط حوصلہ والی ملی تھیں- یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ اور آپ کے غلاموں نے بڑے بڑے کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے- ورنہ اگر میدان جنگ میں جانے