انوارالعلوم (جلد 11) — Page 39
۳۹ زندگی کی مشق کرنی ہوگی ، راتوں کو جاگنا ہوگا، پہرے دینے ہونگے- ان سب باتوں کو ملحوظ رکھ کر بتائیں کہ کیا آپ اس بوجھ کو اٹھانے کے لئے تیار ہیں اور اس کام کو جاری رکھنا چاہتے ہیں- (حضور کے اس سوال پر تمام حاضرین نے بلا استثناء کھڑے ہو کر اس کام کو سرانجام دینے پر آمادگی کا اقرار کیا- پھر حضور نے دریافت فرمایا- ) جو لوگ اس معاملہ کو طُول دینا مناسب نہ سمجھتے ہوں اور اسے یہیں ختم کر دینا چاہتے ہوں وہ کھڑے ہو جائیں- (جس پر ایک آدمی بھی کھڑا نہ ہوا- ) (اس کے بعد حضور نے فرمایا-) ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ اس علاقہ کے مسلمانوں کی تنظیم کریں، لوگوں کو قانون سے واقف کریں، اس علاقہ میں مسلمانوں پر بہت ظلم ہو رہا ہے- اس ضلع میں کثرت مسلمانوں کی ہے- ذیلداروں اور آنریر مجسٹریٹیاں مسلمانوں کے مقابلہ میں ہندوؤں کے پاس بہت زیادہ ہیں- مسلمان قانون سے ناواقف ہیں- ہمارا کام ہے کہ انہیں واقف کریں- انہیں بتائیں بلکہ اشتہار دیں کہ گائے کھائیں- یہ کوئی جرم نہیں ہے- صرف یہ شرط ہے کہ پردہ کے اندر اسے ذبح کیا جائے- گائے کے ذبیحہ کرنے کی کہیں بھی ممانعت نہیں سوائے اس جگہ کے جہاں دفعہ ۴۳ ہو- صرف اتنی احتیاط چاہئے کہ نمائش نہ ہو- اس وقت یہاں دفعہ ۴۳ ہے- لیکن اگر کمشنر نے فیصلہ خلاف سنا دیا تو اسی دن یہ منسوخ ہو جائے گی- پس آج سے ہی سکیمیں بنانی چاہئیں کہ پھر ہمیں کیا کرنا ہوگا- (فرمودہ ۱۵-اکتوبر ۱۹۲۹ء) ۱؎ حکومتِ خوداختیاری ۲؎ بخاری کتاب المظالم باب من قتل دون مالہ میں ’’ من قتل دون مالہ فھو شھید‘‘ کے الفاظ ہیں۔