انوارالعلوم (جلد 11) — Page 29
۲۹ دکھانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔مگر میں نے بتایا ہے ہم یوں دعوے نہیں کیا کرتے اور اس وقت بھی میں کوئی دعویٰ کرنا پسند نہیں کرتا اسی لئے میں اس بات کو طول دینا نہیں چاہتا بلکہ صرف اتنا کہتا ہوں کہ جب کوئی ایسا موقع آئے گا اس وقت ہم دکھا دیں گے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں اور کیا کرتے ہیں۔مؤمن کا کام وقت اور موقع پر کر کے دکھانا ہو تا ہے اس لئے اسے کسی دعویٰ کی ضرورت نہیں ہوتی۔لیکن چونکہ خیالات کا اظہار نہ کرنے کی وجہ سے دوسرے دھوکا کھا سکتے ہیں اس لئے میں فساد بڑھانے کی غرض سے نہیں بلکہ امن پسندی کی نیت سے بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہم قیام ِامن کے لئے سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن کوئی ایسی بات برداشت نہیں کر سکتے جس سے بے غیرتی اور بے حمیّتی پیدا ہو۔مذبح کے سوال پر میں نے ٹھنڈے دل سے غور کیا تو میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ سوال یہ نہیں کہ سکھوں اور ہندوؤں نے اینٹوں کی ایک چار دیواری گرا دی۔یا یہ کہ ایک خاص غذا کھانے سے مسلمانوں کو روک دیا بلکہ سوال یہ ہے کہ کوئی قوم اپنی نجابت اور شرافت کو ثابت کرنے کے لئے کبھی ایسی زندگی برداشت نہیں کر سکتی کہ ایک دوسری قوم اسے کہے کہ جو میں کہوں وہ کرے اور جس کی میں اجازت دوں وہ کھائے۔اس قوم سے بڑھ کر بے غیرت قوم اور کوئی نہیں ہو سکتی جو اپنے کھانے پینے کو دوسری قوم کے اختیار میں دے دے۔اسلام نے کسی غیر مسلم کو مجبور نہیں کیا کہ اس کی تعلیم پر عمل کرے لیکن اس بات کی بھی کسی کو اجازت نہیں دی کہ مسلمانوں کو اپنے مذہب کی تعلیم پر چلنے کیلئے مجبور کرے۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ہندو ایک سرے سے لیکر دوسرے سرے تک کہتے تو یہ ہیں کہ اسلام جبر کی تعلیم دیتا ہے مگر جبر خود کرنا چاہتے ہیں اور گائے کا گوشت جبراً بند کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اسلام نے تو اُن معاملات میں بھی جبر کرنے کی اجازت نہیں دی جو کہ گائے کی نسبت بہت اہم ہیں۔مثلاً سُود خوری۔اے خدا سے لڑائی قرار دیا گیا ہے۔مگر ہم روزانہ بنیوں اور مہاجنوں کو دیکھتے ہیں کہ سودی کاروبار کرتے ہیں۔مگر ہم ان کی بہیوں کو چاق نہیں کر دیتے۔لیکن یہی طریق طریق جاری ہو جائے کہ جو بات کسی کو دوسرے مذاہب والوں کی ناپسند ہو، اس سے جبراً روک دے تو ہندوؤں کو معلوم ہونا چاہئے۔اسلام نے سود خوری کو خدا سے جنگ قرار دیا ہے۔اگر اسی اصل پر عمل ہونا چاہئے جو ہندو گائے کے متعلق قرار دے رہے ہیں تو پھر مسلمانوں کو بھی حتمال ہوتا ہوا ہے سودی لین دین کرنے والوں کو جبراً روک دیں۔ان کی بہیاں پھاڑ دیں اور ان کے مکان گرا دیں۔کیا دوسری قومیں