انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 555 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 555

۵۵۵ فضائل القرآن(نمبر ۳) مسلم کے معنی ہی فرمانبردار کے ہیں۔پس مسلم محکوم ہوتا ہے مگراصول کا۔مسلم محکوم ہوتا ہے مگر راستی کا۔مسلم محکو م ہوتا ہے مگر حق کا۔پس جب کسی مسلم کی محکومی کو دیکھیں گے تو یہ معلوم کریں گے کہ اس کی محکومی اسلام کے مطابق ہے یا خلاف۔اگر ا س کی محکومی خلاف اسلام ہو تو ہم کہیں گے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔لیکن اگر اسلام کے مطابق ہو تو ہم کہیں گے کہ سچا مومن یہی ہے۔پس اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کسی غیر مسلم حکومت کے ماتحت رہنا اسلام کے اصول کے خلاف ہے تو ماننا پڑے گا کہ انگریزوں کے ماتحت احمدیوں کا رہنا بھی خلاف شریعت ہے۔لیکن اگر یہ ثابت ہو جائے کہ غیر مسلم حکومت کے ماتحت رہنا اسلام کے خلاف نہیں تو ماننا پڑے گا کہ احمدیوں کا انگریزی حکومت کے ماتحت رہنا بھی خلاف شریعت نہیں بلکہ ماتحت رہنا اسلام کے عین مطابق ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اس مذہب کا ہی نام نہیں جو رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم لائے بلکہ ہر نبی جو مذہب بھی لایا وہ اسلام ہی تھا۔چنانچہ قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق آتا ہے اِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗ اَسْلِمْ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ ۲؂ یعنی جب اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا اَسْلِمْ مسلمان ہو جاؤ تو انہوں نے کہا۔اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْن تو رب العالمین کے لئے پہلے ہی اسلام لا چکا ہوں۔غرض پہلے تمام انبیاء جو دین لائے وہ بھی اسلام ہی تھا۔ان ہی انبیاء میں سے ایک نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے ماتحت اس کی حکومت میں رہے حالانکہ فرعون کا نام اب گالی کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔پھر ان ہی انبیاء میں سے ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے جو رومی حکومت کے ماتحت رہے جو مشرک تھی۔پس جب ان انبیاء ؑ کے اسلام کو غیر مسلموں کے ماتحت رہنے سے کوئی نقصان نہ پہنچتا تھا تو ہم جن کے ماتحت رہتے ہیں وہ تو اہل کتاب ہیں۔جو ان لوگوں سے اقرب ہیں۔رومی کسی شریعت کے پابند نہ تھے اور نہ فرعون کے پاس کوئی شریعت تھی اب اگر ان کی اور ہماری محکومیت میں کوئی فرق ہے تو یہ ہے کہ ہم کم محکوم ہیں اور وہ زیادہ محکوم تھے۔اگر ا س محکومیت سے ان کے اسلام میں فرق نہ آیا تو پھر ہمارے اسلام میں بھی فرق نہیں آسکتا۔اسلام میں کہیں یہ حکم نہیں کہ کسی مسلمان کو کسی غیر مسلم حکومت کے ماتحت نہیں رہنا چاہیے خود رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم تیرہ سال تک مکہ میں مشرکوں کے قوانین کے ماتحت رہے۔باقی رہا یہ کہنا کہ احمدی اگر حقیقی مسلمان ہیں تو گویا ایک مسلمان بھی دنیا میں آزاد نہیں