انوارالعلوم (جلد 11) — Page 27
۲۷ بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلي على رسؤله الكريم مذبح قادیان کے انہدام کے متعلق اظہارِ خیالات (فرمودہ یکم اکتوبر ۱۹۲۹ء) سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔میں اپنے دوستوں کا اس اظہار ِمسرت اور اظہار ِاخلاص پر جو میری آمد پر انہوں نے کیا ہے شکریہ ادا کرتے ہوئے اور اللہ سے یہ دعا کرتے ہوئے کہ اللہ تعالی انہیں اس اخلاص اور محبت کی جزائے خیر عطا کرے، اس موضوع کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جس پر کہ اس ایڈریس کے جو اس وقت میری آمد پڑھا گیا ہے اکثر مطالب حاوی ہیں۔دنیا جانتی ہے ہم نے بزدل کہلا کر خوشامد ی کہلا کر، لالچی اور حریص کہلا کر، بے وقوف اور جاہل کہلا کر اور ہر قسم کے بُرے سے بُرے نام رکھا کر بھی دنیا میں امن اور آشتی قائم رکھنے کے لئے ہر قسم کی سعی اور جد وجہد سے کام لیا ہے۔لوگوں نے ہمارے نازک ترین احساسات کو صدمہ پہنچایا اور ہر طرح کے طعنوں سے بھڑکایا لیکن باوجود ان کے اشتعال اور غیرت دلانے کے ہم نے اپنے جذبات کو دبائے رکھا اور فتنوں اور فسادات کی آگ کو بھڑکانے کی کوشش نہیں کی بلکہ ان کے مٹانے کی سعی کی ہے۔لیکن ایک بات ہے جو میں اپنی جماعت کے دوستوں کو سنا دینا اور ساری دنیا کو بتا دینا چاہتا ہوں اور وہ ہے کہ مومن اگر ایک وقت اپنی نرمی، آشتی اور صلح جوئی کے ثبوت کے لئے ہر ایک قربانی کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے تو جس وقت اس کی اس آزمائش اور اس امتحان کو ایسے مقام پر پہنچا دیا جاتا ہے جہاں سے آگے چلنے سے شریعت اسے روک دیتی ہے، اس وقت اس سے بڑھ کر بہادر اور جری بھی کوئی نہیں ہوتا۔اس وقت اسے بہادری اور شجاعت د کھانے سے نہ دنیا کی حکومتیں روک سکتی ہیں، نہ گورنمنٹیں اس کا کچھ کر سکتی ہیں کیونکہ دنیا میں کسی کام سے رُکنے اور باز رہنے کی دو ہی وجوہ ہوتی ہیں۔اول