انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 541 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 541

۵۴۱ بعض اہم اور ضروری امور میں نے انہیں جو کچھ کہا- وہ الفضل ۷- مارچ ۱۹۳۰ء میں ان الفاظ میں شائع ہوا ہے- ‘’اس زمانہ کے علماء کو شرمن تحت ادیم السماء ۳؎یعنی بدترین مخلوق قرار دیا گیا ہے اور دراصل کسی آنے والے کی ضرورت بھی اسی وقت ہوتی ہے جب علماء بگڑ جائیں- جب تک یہودی علماء میں علم باقی تھا اور وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت پر عمل کرتے تھے رسول کریم ؎ نہ آئے- اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کے آنے کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ علماء کی حالت بگڑ جاتی ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان علماء کو چیلنج دیا کہ میرے مقابل میں آ کر تفسیر لکھو۔اگر ان علماء میں علم ہوتا تو وہ اسے قبول کیوں نہ کرتے- پھر حضرت مسیح موعود علیہالسلام نے فرمایا ہے- یہ تفسیر قرآن کا کام میرا ہے یا اس کا جو مجھ سے ہو اور اس طرح یہ دروازہ اپنی جماعت کیلئے بھی کھلا رکھا- اب میں نے بھی کئی بار چیلنج دیا ہے کہ قرعہ ڈال کر کوئی مقام نکال لو- اگر یہ نہیں تو جس مقام پر تم کو زیادہ عبور ہو بلکہ یہاں تک کہ تم کو ایک مقام پر جتنا عرصہ چاہو غور کر لو اور مجھے وہ نہ بتاؤ- پھر میرے مقابل میں آ کر اس کی تفسیر لکھو- دنیا فوراً دیکھ لے گی کہ علوم کے دروازے مجھ پر کھلتے ہیں یا ان پر- مگر کسی کو جرات نہیں ہوتی کہ سامنے آئے’‘ الفضل میں اس مکالمہ کے شائع ہونے پر غالباً بعض لوگوں کی تحریک پر مولوی ثناء اللہ صاحب نے لکھا- ‘’پہلے بھی خلیفہ قادیان نے دیو بندیوں کو تفسیر نویسی کا چیلنج دیا تھا جس کے جواب میں ہم نے لکھا تھا کہ تعلیمی حیثیت سے ہم بھی دیو بندی ہیں- پس ایک سادہ قرآن شریف لے کر بٹالہ کی جامع مسجد میں آکر بالمقابل تفسیر لکھئے- جس کے جواب میں آج تک ہاں نہ پہنچی بلکہ انکار کر گئے- گذشتہ را صلوٰۃ اب سہی- ہماری طرف سے کوئی شرط نہیں- صرف یہ کہ سادہ قرآن اور کاغذ قلم دوات لیکر الگ الگ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھنا ہوگا اور تفسیر اور معارف کیلئے ضروری ہو گا کہ علوم عربیہ کے ماتحت ہوں، بس’‘۴؎ اس تحریر سے یہ امور ثابت ہوتے ہیں- اول یہ کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے تفسیرنویسی کے متعلق میرا وہ چیلنج منظور کر لیا تھا جو میں نے دیو بندیوں کو دیا تھا- دوم یہ کہ