انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 540 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 540

۵۴۰ بعض اہم اور ضروری امور سکتا ہے- اس پر میں نے فیصلہ کیا کہ سائمن رپورٹ پر بھی تبصرہ لکھوں اور اس کے بعد مولوی ثناء اللہ صاحب کی تحریروں کا جواب لکھوں گا کیونکہ اگر پہلے ان کا جواب لکھا گیا اور مولوی صاحب کو معلوم ہو گیا کہ میں سائمن رپورٹ پر تبصرہ لکھنے میں مصروف ہوں تو وہ کہیں گے ابھی آؤ اور قرآن کی تفسیر لکھو- اس لئے اس وقت انہیں جواب دوں گا جب فرصت ہوگی کیونکہ دیکھا گیا ہے مولوی ایسے موقع کی تاک میں رہتے ہیں جب کہ انہیں مقابلہ سے بچنے کے لئے کوئی بہانہ مل سکے- مثلاً جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا کہ انہیں مباحثات سے روکا گیا ہے تو مولویوں نے جھٹ اعلان کر دیا آؤ اب مباحثہ کر لو- اس سے ان کی غرض یہ تھی کہ اگر مباحثہ کرنے پر آمادہ ہو گئے تو کہہ دیں گے انہوں نے الہٰی ہدایات کے خلاف کیا اور اگر آمادہ نہ ہوئے تو کہہ دیں گے جھوٹے ہیں اس لئے مباحثہ نہیں کرتے- اس وجہ سے میں نے خیال کیا کہ جب مجھے فرصت ہوگی، اسی وقت مولوی صاحب کو مخاطب کروں گا اس وقت تک جس قدر چاہیں ہنسی اڑا لیں- غرض میں نے سائمن رپورٹ کے متعلق کتاب لکھنی شروع کر دی اس کے بعد راؤنڈٹیبل کانفرنس کا کام شروع ہو گیا- جس کے متعلق ہندوستان میں اور باہر بہت کچھ کرنا پڑا- اس وجہ سے بہت سی ڈاک بھی جمع ہو گئی اور شکایات آنی شروع ہو گئیں کہ خطوط کے جواب نہیں آتے- پس اس کام سے فارغ ہو کر ڈاک کی طرف زیادہ توجہ کرنی پڑی- ۱۵- دسمبر کو مجھے ڈاک اور دوسرے کاموں سے فراغت ہوئی- اس وقت میں نے خیال کیا کہ اگر اب جواب دوں تو مولوی صاحب جلسہ سالانہ کی تاریخوں میں کہیں گے تفسیر لکھو اس لئے یہی مناسب ہے کہ جلسہ سالانہ پر ان کے متعلق اعلان کروں- اس کے بعد جو وقت بھی وہ تفسیر نویسی کے لئے مقرر کریں گے ہم اسے انشاء اللہ منظور کر لیں گے- اوپر کی وجہ کے علاوہ میں دسمبر میں بیمار بھی رہا- اور ناف کے قریب پھوڑا ہونے کی وجہ سے زیادہ دیر تک بیٹھ کر نہ لکھ سکتا تھا- اب میں اصل بحث کو لیتا ہوں- ۷- مارچ ۱۹۳۰ء کے الفضل میں میرا ایک مکالمہ ایک غیر احمدی مولوی صاحب سے جو بڑے سیاح تھے اور انہوں نے دنیا کے بڑے حصہ کا چکر لگایا تھا شائع ہوا- آخر انہوں نے بیعت کر لی اور حیدر آباد میں جا کر فوت ہو گئے- انہوں نے مجھ سے کئی سوالات کئے تھے جن کے میں نے جواب دیئے- اسی سلسلہ میں انہوں نے پوچھا- کیا علماء اندھے ہیں جو ایسے واضح دلائل کو نہیں مانتے اس کے جواب میں