انوارالعلوم (جلد 11) — Page 521
۵۲۱ مسلمان ہو کر اسلام کے جاں نثار بن گئے- اگر عورت یہ ہمت نہ دکھاتی تو عمرؓ پر اتنا اثر نہ ہوتا اور نہ بہن بھائی ابدی طور پر یوں ملتے کہ ذرا بھی جدائی نہ ہوئی- یاد رکھو کہ یہ محض قربانی کا ثمرہ تھا- پس اگر تم اپنے رشتہ داروں کو اپنے ساتھ ملانا چاہتی ہو تو قربانی کرو- اللہ تعالیٰ کا نشتر فائدہ کے لئے اور اس کی سزا رحم کے لئے ہوتی ہے- وہ کبھی ظلم سے کسی کو سزا نہیں دیتا- اس کا رحم بے پایاں ہے- خود فرماتا ہے رحمتی وسعت۵؎ کہ میری رحمت وسیع ہے- تو وسیع رحمت والے سے کس طرح ظلم کی توقع ہو سکتی ہے اس کے کسی فعل سے ظلم ظاہر نہیں ہوتا- دوزخ محض سزا دہی اور تادیب کے لئے ایک ہسپتال ہے جہاں کوئی چند دن رہا- کوئی چند ہفتے، کوئی چند مہینے، کوئی چند سال مگر جس طرح کوئی ہمیشہ دنیوی ہسپتالوں میں نہیں رہتا اسی طرح وہ ہسپتال (دوزخ)بھی دائمی نہیں- جنت گھر ہے اور دوزخ ہسپتال- اللہ تعالیٰ کبھی برداشت نہیں کرتا کہ اپنے بندوں کو دائمی دکھ میں ڈال دے- حدیث میں آتا ہے کہ آخر ایک دن دوزخ کے دروازے جنت کی ہوائیں ہلائیں گی اور اسے ٹھنڈا کر دیں گی- یہ بھی وسیع رحمت کی دلیل ہے- پس تمہارے اقرباء کی جدائیاں تادیب و ترقی کے لئے ہیں نہ ظلم و جور کی وجہ سے- جیسے ماں کے پیٹ سے بچے کا جدا ہونا اس کی ترقیات کے لئے مفید اور ضروری ہے- تو کیا کوئی ماں اپنے بچے کا پیٹ سے جدا ہونا ناپسند کرتی ہے؟ کیا وہ کبھی کہتی ہے کہ ہائے کیوں میرا بچہ میرے پیٹ سے الگ کیا گیا؟ ہرگز نہیں کہتی- کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ اس علیحدگی میں اس کے بڑھنے اور ترقی کرنے کے راستے نکلیں گے- وہ پیٹ میں کوئی ترقی نہیں کر سکتا تھا- پس خدا تعالیٰ بھی تمہارے رشتہ داروں کو اسی لئے جدا کرتا ہے کہ تا وہ ہمیشہ کے لئے تم سے آملیں- علم ادم الاسماء۶؎ میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو فرمایا ہے کہ اس تفرقے میں (جو تمہارے نزدیک ہے) مدرسہ ہے اور اس طرح الگ کر کے علوم سے بہرہ ور کرنا مقصود ہے- دیکھو اگر اگر بہن بھائی ماں باپ سب اکٹھے ہوں تو تعلیم کیونکر پوری ہو سکتی ہے- لیکن سکول علیحدہ ہوتا ہے تو تعلیم کا انتظام بھی مکمل ہو سکتا ہے- ایک لڑکا جو خاص طور پر سکول بھیجا جائے خیال کرتا ہے کہ میں تمام رشتہ داروں سے محض تعلیمی غرض سے علیحدہ کیا گیا ہوں- اس