انوارالعلوم (جلد 11) — Page 520
۵۲۰ تم استقلال کو ہاتھ سے نہ دو- یہ مت سمجھو کہ خدا تمہیں ہمیشہ کے لئے جدا ہی رکھے گا- نہیں ہرگز نہیں- وہ تمہیں ملائے گا اور دائمی طور پر ملائے گا- وہ تمہارا استقلال دیکھتا ہے- پس اپنے تعلقات خدا کے لئے قطع کرو اور راضی برضاء ہوتا تمہارے رشتہ دار بھی تم سے بالاخر دائمی مل جائیں- میں نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ کبڈی ہو رہی ہے احمدی اور غیر احمدی دو پارٹیاں ہیں- احمدیوں کی پارٹی فریق مخالف کو پکڑ پکڑ کر لا رہی ہے یہاں تک کہ سب ختم ہو گئے- فریق مخالف میں سے صرف ایک بڑا سا آدمی رہ گیا جو دیوار کے ساتھ لگ کر رینگتا ہوا آخر احمدیوں میں مل کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ جب سارے ادھر آ گئے تو میں تنہا ادھر کیا کروں- اس میں تمہارے لئے سبق ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اٹل فیصلہ ہے کہ وہ تمہارے رشتہ داروں کو تم سے ملائے گا- لیکن اگر تم خود اس کے فیصلوں کو توڑ کر یہ قرابتیں قائم کرو تو یاد رکھو کہ ہمیشہ کے لئے وہ تم سے دور کئے جائیں گے کیونکہ تمہارا یہ فعل خدا تعالیٰ کی مرضی کے خلاف ہوگا- پس اس کی ناراضگی ہمیشہ کے لئے تمہیں جدا کر دے گی- حضرت عمرؓ کے متعلق آیا ہے کہ وہ آنحضرت ؎ کے سخت مخالف تھے اتنے سخت کہ ایک مرتبہ اپنی ایک لونڈی کو محض اسلام لانے کی وجہ سے اتنا مارا کہ اس کی آنکھیں ضائع ہو گئیں اور ایک دفعہ جب آنحضرت ﷺ کو مارنے کا کفار نے منصوبہ کیا تو آپ نے اس بیڑے کو اٹھانے کا تہیہ کیا- کسی نے آپ کا ارادہ معلوم کر کے کہا کہ پہلے گھر کی خبر تو لو تمہاری بہن اور بہنوئی بھی تو محمدﷺ کے حلقہ بگوش ہیں- اسی وقت بہن کے گھر گئے- بہن بہنوئی ایک صحابیؓ سے قرآن شریف سن رہے تھے- قرآن چھپا دیا گیا- عمر نے ان سے دریافت کرنے کے بعد اپنے بہنوئی پر تلوار کا حملہ کیا- بہن آڑے آ گئی اور زخمی ہو گئی- عورت کو مارنا چونکہ بزدلی کی علامت سمجھی جاتی ہے عمرؓ شرمندہ ہو گئے- بہن کا خون بہتا دیکھ کر اس ندامت کو مٹانے کے لئے پوچھا بتاؤ تو کیا پڑھ رہے تھے- بہنوئی نے چاہا کہ قرآن شریف دکھاویں مگر بہن نے جوش سے کہا تو ناپاک ہے وہ مقدس کتاب کیونکر تجھے دکھائی جا سکتی ہے- عمرؓ چونکہ اپنے فعل اور بہن کی قوت ایمانی سے بے حد متاثر ہو چکے تھے نرم ہو گئے اور جھٹ ایمان لے آئے-۴؎ یہ اس لئے کہ عورت نے تہیہ کر لیا تھا کہ اپنے اس معزز بھائی کو قطعی چھوڑ دیں گے مگر اس مقدس دین کو نہ چھوڑیں گے- پس ان کے اس استقلال پر اللہ تعالیٰ نے عمرؓ کے دل کو نرم کر دیا- وہ